وہ یقیناً دامنِ امن واماں میں آ گیا

جو پناہ سیّد کون ومکاں میں آ گیا

آپ کا اسمِ مبارک لیتے ہی گرداب میں

رحمتوں کا ایک جھونکا بادباں میں آ گیا

روشنی پھیلی اندھیرے چھٹ گئے رستے کھلے

لامکاں سے میم کا سورج مکاں میں آ گیا

سننے والے کہہ اٹھے اللہ کا فرمان ہے

حق تعالیٰ کا بیان ان کے بیاں میں آ گیا

راہ سے بھٹکے ہوئے کو رہبری سونپی گئی

خوش نصیبی سے نبی کے کارواں میں آ گیا

آپ نے اللہ اکبر کہہ دیا تو یک بیک

زلزلہ ہر بتکدہ کے آستاں میں آ گیا

تلخ کامی میں درودِ پاک بھیجا آپ پر

رحمتوں کا ذائقہ نطق و زباں میں آ گیا

آفتاب حشر کی گرمی سے بچنا تھا مجھے

میں شفیع المذنبیں کے سائباں میں آ گیا

شکریہ رزمی ادا ہوتا عدم میں کس طرح

نعت کہنے کے لیے میں اس جہاں میں آ گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]