راہِ طلب میں لاکھ حوادث ملے مگر
دل بے نیازِ درد تجھے ڈھونڈتا رہا تُو تو دلوں میں ایک خلاء چھوڑ کر گیا تیرا خلاء نورد تجھے ڈھونڈتا رہا صحرا کی خاک پھانکتے گزری ہے زندگی میں ہو کے بادگرد تجھے ڈھونڈتا رہا ائے موجہِ نسیمِ بہاراں ، کہاں ہے تُو دل کا یہ برگِ زرد تجھے ڈھونڈتا رہا اک بے پناہ […]