نہ جاہ و حشم سے نہ کروفر سے
نہ دولت مال سے، نہ سیم و زر سے شہنشاہوں نہ سلطانوں کے در سے سکوں پایا ظفرؔ اللہ کے گھر سے
معلیٰ
نہ دولت مال سے، نہ سیم و زر سے شہنشاہوں نہ سلطانوں کے در سے سکوں پایا ظفرؔ اللہ کے گھر سے
نہیں عقدہ کشا کوئی خدا سا بھرے جاتے ہیں سب کے خالی داماں نہیں حاجت روا کوئی خدا سا
نہیں روزی رساں کوئی خدا سا وہی اعلیٰ و ارفع محتشم ہے نہیں عظمت نشاں کوئی خدا سا
مُقدر کا ستارہ اوج پر ہے جھُکا ہوں میں خدا کی بارگاہ میں مرا قلبِ حزیں ہے چشمِ تر ہے
مشیت ایزدی ہے یہ، یہی فرمانِ قرآں ہے کرو خدمت فقیروں کی، دریدہ جن کا داماں ہے نہ اِنسانوں کے کام آئے، ظفرؔ تو کیسا انساں ہے ؟
عظیم الفاظ میں لاؤں کہاں سے خیالوں میں خدا کی حمد لکھوں کروں پیشِ خدا، سوزِ نہاں سے
خدا انسان کے دل میں مکیں ہے کرو محسوس رب کو قلب و جاں میں جہاں رکھ دو جبیں اللہ وہیں ہے
تو اکبر ہے تو ارفع ہے، عظیم و محتشم ہے خطا کاروں کا تو ستّار ہے، رکھتا بھرم ہے ظفرؔ یادوں میں تیری منہمک ہے، چشم نم ہے
خدا کے گھر کی رونق روز افزوں بیشتر ہے خدا کے گھر میں توسیع کی سعی جو کر رہے ہیں خدا ہی رہنما اُن کا، خدا ہی راہبر ہے
جو انسانوں پہ جور و ظلم ڈھائے ہے ایسا شخص ننگِ آدمیت خدا کے صبر کو جو آزمائے