محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا

محمد  مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا نظر آتا ہے اس کثرت میں کچھ انداز وحدت کا یہی ہے اصل عالم مادہ ایجاد خلقت کا یہاں وحدت میں برپا ہے عجب ہنگامہ کثرت کا گدا بھی منتظر ہے خلد میں نیکوں کی دعوت کا خدا دن خیر سے لائے سخی کے گھر ضیافت […]

عشق مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن

یا خدا جلد کہیں آئے بہارِ دامن بہہ چلی آنکھ بھی اشکوں کی طرح دامن پر کہ نہیں تار نظر جز دو سہ تارِ دامن اشک برساؤں چلے کوچہ ءِ جاناں سے نسیم یا خدا جلد کہیں نکلے بخارِ دامن دل شدوں کا یہ ہوا دامنِ اطہر پہ ہجوم بیدل آباد ہوا نام دیارِ دامن […]

بندہ ملنے کو قریب حضرت قادر گیا

لمعہءِ باطن میں گمنے جلوہءِ ظاہر گیا تیری مرضی پا گیا سورج پھرا الٹے قدم تیری انگلی اٹھ گئی مہ کا کلیجا چر گیا بڑھ چلی تیری ضیا اندھیر عالم سے گھٹا کھل گیا گیسو ترا رحمت کا بادل گھر گیا بندھ گئی ہوا سا وہ میں خاک اڑنے لگی بڑھ چلی تیری ضیا آتش […]