زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہدِ گل کو

الٰہی طاقتِ پرواز دے پر ہائے بلبل کو بہاریں آئیں جوبن پر گھرا ہے ابر رحمت کا لبِ مشتاق بھیگیں دے اجازت ساقیا مل کو ملے لب سے وہ مشکیں مہر والی دم میں دم آئے ٹپک سن کر قمِ عیسیٰ کہوں مستی میں قلقل کو مچل جاؤں سوالِ مدعا پر تھام کر دامن بہکنے […]

راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں

مصطفےٰ ہے مسندِ ارشاد پر کچھ غم نہیں ہوں مسلماں گرچہ ناقص ہی سہی اے کاملو ماہیت پانی کی آخر یم سے نم میں کم نہیں غنچے ما اَوحیٰ کے جو چٹکے دَنیٰ کے باغ میں بلبلِ سدرہ تک اُنکی بُو سے بھی محرم نہیں اُس میں زم زم ہے کہ تھم تھم ، اس […]

ہے لبِ عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میں

سنگریزے پاتے ہیں شیریں مقالی ہاتھ میں بے نواؤں کی نگاہیں ہیں کہاں تحریرِ دست رہ گئیں جو پا کے جودِ یزالی ہاتھ میں کیا لکیروں میں ید اللہ خط سرو آسا لکھا راہ یوں اس راز لکھنے کی نکالی ہاتھ میں جودِ شاہِ کوثر اپنے پیاسوں کا جویا ہے آپ کیا عجب اڑ کر […]

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں

جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیئے ہیں جب آگئی ہیں جوش رحمت پہ ان کی آنکھیں جلتے بجھا دیئے ہیں روتے ہیں ہنسا دیئے ہیں اک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا تم نے تو چلتے پھرتے ہیں مردے جلا دیئے ہیں ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو […]

یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں

بیٹھے بٹھائے بد نصیب سر پہ بلا اٹھائی کیوں دل میں تو چوٹ تھی دبی ہائے غضب ابھر گئی پوچھو تو آہِ سرد سے ٹھنڈی ہوا چلائی کیوں چھوڑ کے اُس حرم کو آپ بَن میں ٹھگوں کے آ بسو پھر کہو سر پہ دھر کے ہاتھ لٹ گئی سب کمائی کیوں باغِ عرب کا […]

پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں

کیف کے پر جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں قصرِ دنیٰ کے راز میں عقلیں تو گم ہیں جیسی ہیں روحِ قدس سے پوچھئے تم نے بھی کچھ سنا کہ یوں میں نے کہا کہ جلوۂ اصل میں کس طرح گُمیں صبح نے نورِ مہر میں مٹ کے دکھا دیا کہ یوں ہائے رے […]

یاد میں جس کی نہیں ہوش ِتن و جاں ہم کو

یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن و جاں ہم کو پھر دکھادے وہ رخ اے مہرِ فروزاں ہم کو دیر سے آپ میں آنا نہیں ملتا ہے ہمیں کیا ہی خور رفتہ کیا جلوہٴِ جاناں ہم کو جس تبسم نے گلستاں پہ گرائی بجلی پھر دکھادے وہ ادائے گلِ خنداں ہم کو کاش آویزہ […]

پاٹ وہ کچھ دھار یہ کچھ زار ہم

یا الٰہی کیوں کر اتریں پار ہم کس بلا کی مے سے ہیں سرشار ہم دن ڈھلا ہوتے نہیں ہشیار ہم تم کرم سے مشتری ہر عیب کے جنسِ نامقبولِ ہر بازار ہم دشمنوں کی آنکھ میں بھی پھول تم دوستوں کی بھی نظر میں خار ہم لغزشِ پا کا سہارا ایک تم گرنے والے […]

سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول

لب پھول، دہن، پھول، ذقن پھول، بدن پھول صدقے میں ترے باغ تو کیا لائے ہیں بن پھول اس غنچہ ءِ دل کو بھی تو ایما ہو کہ بن پھول تنکا بھی ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا تم چاہو تو ہو جائے ابھی کوہِ محن پھول واللہ جو مل جاے مرے گل کا پسینہ مانگے […]

نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض

ظلمتِ حشر کو دن کر دے نہارِ عارض میں تو کیا چیز ہوں خود صاحبِ قرآں کو شہا لاکھ مصحف سے پسند آئی بہارِ عارض جیسے قرآن ہے ورد اس گل محبوبی کا یوں ہی قرآں کا وظیفہ ہے وقارِ عارض گرچہ قرآں ہے نہ قرآں کی برابر لیکن کچھ تو ہے جس پہ ہے […]