مرے دل میں ہے ایک ارمان آقا

بنوں آپ کے در کا مہمان آقا مری مشکلیں بھی ہوں آسان آقا رہوں میں ترے در کا دربان آقا پکارا ہے جب بھی بنے ہیں سہارا کہا دل نے تیرا ہے احسان آقا بلا لو بلا لو مجھے بھی مدینے بہت ہے عقیدت کا طوفان آقا مری ہو کبھی تو تمنّا یہ پوری مدینے […]

جب مدینے تک رسائی مل گئی

شاہِ بطحا کی گدائی مل گئی جب نبی کی میں ثنا کرنے لگا ہر زباں کی ہمنوائی مل گئی یا نبی اک بار جس نے بھی کہا غم سے اس کو پھر رہائی مل گئی مدختِ سرکار کا آیا خیال ہر سُخن کو پارسائی مل گئی جب محبت سے کہا ہے مصطفےٰ دو جہاں تک […]

سیرت پہ ان کی چل کے تو روشن حیات کر

یوں سیرتِ نبی سے تو اپنی نجات کر اپنے قلم کو پہلے ادب سے گزار لے نعتِ نبی کے باب میں پھر کوئی بات کر تجھ کو سخن سے رب نے نوازا ہے جس قدر اصناف اس کی چھوڑ کے نعتوں سے رات کر اپنے خدا سے ایک دعا صبح و شام ہے لمحات میری […]

کرم حضور نے کچھ یوں کیا مدینے میں

میں اپنے آپ سے آ کر ملا مدینے میں کبھی نہ خالی رہا ہے گدا مدینے میں کہ عجز کی ملی مجھ کو جزا مدینے میں مرے حضور! نہ جاؤں گا آپ کے در سے کہ میرے غم کی ملے گی دوا مدینے میں مجھے قضا پہ یقیں ہے کہ اس کو آنا ہے تو […]

فیضِ مدحت سے مرے دل کی فضا کیف میں ہے

نعتِ سرور کی ہوئی ہے جو عطا کیف میں ہے مجھ کو طیبہ کی زیارت ہو عطا اے مولا ایک مدت سے یہی لب پہ دعا کیف میں ہے ان کے قدموں کو خداوند نے برکت بخشی ’’چھو کے نعلینِ کرم غارِ حرا کیف میں ہے‘‘ آپ کے در سے گدا خالی نہ پھرتے دیکھا […]

کتنی اعلیٰ ہے نبوّت آپ کی

عالمیں پر ہے رسالت آپ کی آپ کی مدحت سرائی اور میں یہ سراسر ہے عنایت آپ کی نعت سے بدلا غزل کو آپ نے نعت گوئی با اجازت آپ کی رد ہوئے ادیان سارے آخرش حشر تک باقی شریعت آپ کی صادق الوعد و امیں القاب ہیں دشمنوں کے لب پہ مدحت آپ کی […]

اک دعا کرتا ہوں میں ہاتھ اٹھا کر یا رب

اپنے محبوب کی مدحت میں فنا کر یا رب اور اصنافِ سخن سے نہیں رغبت مجھ کو نعت گوئی کا مجھے رزق عطا کر یا رب لب پہ ہر دم ہے دعا، لاج ترے ہاتھ مری میری مٹی کو مدینے میں فنا کر یا رب نعت کے باب میں محتاط رویہ دے دے التجا ہے […]

انؑ کی رحمت دلیل ہو جائے

ان کی رحمت دلیل ہو جائے عشق میرا وکیل ہو جائے کاش آ جائے موت طیبہ میں یہ رفاقت طویل ہو جائے ان کے دیدار کی تمنّا میں آنکھ رو رو کے جھیل ہو جائے گر ملے آپ کی رضا مجھ کو آخرت بھی جمیل ہو جائے ذکرِ احمد کو حرزِ جاں کر لو فکر […]

کرم کو طیبہ کے رستے میں لکھ دیا جائے

نبی کے نام کو سینے میں لکھ دیا جائے سکونِ دل مرے حصے میں لکھ دیا جائے نبی کی نعت کو شجرے میں لکھ دیا جائے نبی کریم کی مدحت لکھے قلم میرا اسے نصیب کے نقشے میں لکھ دیا جائے تمام عمر ثنائے حضور میں گزرے یہی حیات کے قصے میں لکھ دیا جائے […]

میں نامِ محمد لیے جا رہا ہوں

محبّت انہی سے کیے جا رہا ہوں چراغِ عقیدت کو دل میں جلا کر انہی کی میں مدحت لکھے جا رہا ہوں انہی کا کرم ہے جو مشکل نہیں ہے تبھی ہر مرض سے بچے جا رہا ہوں جو مانے نہ آقا کو ختمِ رسولاں میں بس اس سے نفرت کیے جا رہا ہوں مدینے […]