بے قراری گلے لگاتے ہوئے

ہجرِ طیبہ میں بلبلاتے ہوئے شہرِ طیبہ سے لوٹ آتے ہوئے اشک آنکھوں میں جھلملاتے ہوئے ایک رونق ہے میرے چہرے پر نعت سرکار کی سناتے ہوئے فکرِ طیبہ کا کیف کیا کہنا شعر مدحت کے گنگناتے ہوئے یہ ہمارا ہے خلد اس کی ہے آپ فرمائیں مسکراتے ہوئے بے سکونی سکون سے بدلی دل […]

دھوم ہے دونوں جہاں میں احمدِ مختار کی

نعمتِ کبریٰ ولادت ہے شہ ِ ابرار کی مل گئی تسکین کی دولت اسی لمحے مجھے جس گھڑی قلب و نظر نے مدحتِ سرکار کی مرتبہ سب سے جدا ہے انبیا میں آپ کا شان اعلیٰ کیوں نہ ہو نبیوں کے اس سردار کی چاند ٹکڑوں میں بٹا سورج پلٹ کے آ گیا کس قدر […]

ذکرِ سرکار انگبیں میرا

نعتِ سرور سے دل حسیں میرا میں کسی در پہ کیوں بھلا جاؤں جب مدینے کا ہے مکیں میرا خلد میں بھی بنائیے بَردہ اس جہاں میں ہے دل حزیں میرا جب سجایا درود کو لب پر ہو گیا لہجہ دل نشیں میرا جب سے واپس ہوا مدینے سے تب سے دل لگ رہا نہیں […]

روشنی دل میں وہ سمو لے گا

یا نبی یا نبی جو بولے گا وُہ جہاں میں بھٹک نہیں سکتا آپ کا دل سے جو بھی ہو لے گا دید اُن کی اُسے مُیسّر ہو آنسوؤں سے جو دل بھگو لے گا وہ بلائیں گے پھر مدینے میں ان کی فرقت میں جو بھی رولے گا دیکھ لے جو بھی گنبدِ خضری […]

میں کبھی آقا کی رفعت کبھی عظمت لکھوں

مُلکِ دارین پہ ان کی ہی حکومت لکھوں کس لیے خوف کروں حشر کے دن کا اے دل دل کی دنیا پہ اگر ان کی شفاعت لکھوں مجھ کو اعزاز یہ حاصل ہے کہ مدحت ہی کہوں اس کو سرکارِ مدینہ کی عنایت لکھوں کوئی خالی نہ گیا در سے کبھی بھی سائل!!! اس کو […]

کسی کا ذکر کروں کیوں میں شاعری کے لیے

نبی کا ذکر ضروری ہے زندگی کے لیے حضور آپ کی رحمت بھری نظر ہو پھر تڑپ رہا ہے یہ روضے کی حاضری کے لیے سخن کا حسن غزل کو نہ جانیے گا کبھی نبی کی نعت ہی بہتر ہے تازگی کے لیے حضور آپ کی مدحت کے فیض سے جانا ثنائے پاک ضروری ہے […]

غم سے نجات دفعِ بلیات چاہیے

ذکرِ حبیبِ کبریا دن رات چاہیے دہلیزِ مصطفےٰ پہ سخن سجدہ ریز ہے فکر و خیال کی اسے سوغات چاہیے دنیا سے کچھ غرض نہ زر و مال کی ہوس عشقِ نبی کی بس مجھے سوغات چاہیے محبوبِ کبریا کے جو شایان شان ہو اے فکرِ نارسا مجھے وہ نعت چاہیے کرتے ہیں دفن اس […]

بزمِ الفاظ میں طیبہ کی مہک جاگ اٹھی

پھول کھلنے لگے غنچوں کہ چٹک جاگ اٹھی ان کا جب نامِ معطر میرے لب پر آیا دشتِ دل میں میرے سبزے کی لہک جاگ اٹھی یاد کیا آج مجھے صبحِ مدینہ کا خیال میری بے نور نگاہوں میں چمک جاگ اٹھی فکرِ احمد رضا جس دن سے سخن ساز ہوئی شعر میں عشق کے […]

اک میں ہی نہیں مہر و قمر دیکھنے آئے

طیبہ کے حسیں شام و سحر دیکھنے آئے آباد کیے بیٹھا ہوں اک نعت نگر میں اے کاش کوئی میرا ہنر دیکھنے آئے ہر شام خیالات کے جگنو میرے گھر کے آنگن میں لگا نعت شجر دیکھنے آئے میلاد کی محفل جو سجائی تو فرشتے خوشبو سے مہکتا میرا گھر دیکھنے آئے پھر آئے اسے […]

آسماں ہی سے مگر خون بہایہ نہ گیا

آسماں ہی سے مگر خون بہایا نہ گیا ورنہ محبوب کو کس روز ستایا نہ گیا بارہا میرے قدم راہِ وفا سے بھٹکے پھر بھی سر سے میرے سرکار کا سایا نہ گیا زندگی کیسے اندھیروں سے نکل پائے گی دیپ گر عشقِ محمد کا جلایا نہ گیا عین ممکن ہے کہ مر جائے گا […]