تازہ ترین آج بھی عنوانِ نعت ہے

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے ’’ نہج البلاغہ ‘‘ شرحِ فرامینِ مصطفیٰ اللہ کا کلام بھی دیوانِ نعت ہے الفاظ کی گرفت میں آتا نہیں کبھی شاعر پہ وجد و کیف جو درونِ نعت ہے گم کردۂ حواس ہیں رومی و با یزید اے عشق احتیاط پہ میزانِ نعت ہے امروز بھی حدائقِ […]

سخن کے پیڑ پہ مدحت کا نور آیا ہے

حرائے دل میں خیالِ حضور آیا ہے مزاجِ حضرتِ حسان بھا گیا اس کو قلم کی جیب میں جب سے شعور آیا ہے ہمارے گھر کے ازل سے بجھے چراغوں میں حضورِ والا کے آنے سے نور آیا ہے سکون چاہیے تھا دل کو اور نظر کو چین بس ایک نعت کہی تو سرور آیا […]

نبی کے نام سے دل کو قرار آیا ہے

خزاں کے دور میں عہدِ بہار آیا ہے تمام عمر سکونت کا وہ رہا طالب نواحِ طیبہ میں جو ایک بار آیا ہے چمکتے ہیں جو ستارے سے میری آنکھوں میں دیارِ نور کا ان میں غبار آیا ہے زمانہ کرتا ہے میرے سخن کی قدر بہت اسے ہنر کا میرے اعتبار آیا ہے غمِ […]

خیال ڈھونڈ کے لاؤ بہت ضروری ہے

نبی کے شہر میں جاؤ بہت ضروری ہے چراغِ نعت جلاؤ بہت ضروری ہے دلوں میں جوت جگاؤ بہت ضروری ہے غموں کی دھوپ بدن کو جلا نہ ڈالے کہیں نبی کی نعت سناؤ بہت ضروری ہے خدائے یکتا کی پہچان چاہتے ہو اگر درِ رسول پہ آؤ بہت ضروری ہے تمہارے ہجر میں مر […]

طیبہ کی طرف بارِ گرد کرنے لگا ہے

پھر سوئے حرم شوق سفر کرنے لگا ہے اب عشقِ نبی سینے میں گھر کرنے لگا ہے دنیائے سخن پر یہ اثر کرنے لگا ہے دل اور کسی یاد میں کیوں کر رہے مصروف جب ان کا کرم اس پہ نظر کرنے لگا ہے جنت بھی ہے اس شخص کی تقدیر پہ نازاں جو کوچہ […]

غم ہے نا کوئی دکھ ہے نہ پہلو میں درد ہے

روئے سخن پہ جب سے مدینے کی گرد ہے زیرِ قدم ہیں انجم و خورشید و ماہتاب خوش بخت کتنا طیبہ کاصحرا نورد ہے ہے گنبدِ خیال میں چہرہ حضور کا آتش فراق و ہجر کی سینے میں سرد ہے اپنی مثال آپ ہے وصف و کمال میں ہر فرد خاندانِ نبوت کا فرد ہے

مدینے کے روشن سفر کی طرف

سفینہ چلا مستقر کی طرف مدینے کے دیوار و در کی طرف میرا دھیان ہے اس نگر کی طرف ہے شاخِ قلم پر بہارِ درود شجر بڑھ رہا ہے ثمر کی طرف دو ٹکڑے ہوا شاہِ بطحا نے جب اٹھائی جو انگلی قمر کی طرف جمالِ سخن گنبدِ آرزو ذرا دیکھو میری نظر کی طرف […]

تانبدگی نہیں تھی رخشنددگی نہیں تھی

تانبدگی نہیں تھی رخشندگی نہیں تھی میرے سخن میں ندرت اور تازگی نہیں تھی تاریک تھا مقدر پہنچا درِ نبی پر دل ہو گیا منور پھر تیرگی نہیں تھی سرکارِ دو جہاں کی آمد سے پیش تر تو لہجے میں آدمی کے شائستگی نہیں تھی ماں نے مجھے سنائیں لوری میں ان کی نعتیں گو […]

میرا کلام کبھی معتبر نہیں ہوتا

اگر حضور کی چوکھٹ پہ سر نہیں ہوتا رخِ حیات یہ تابندگی نہیں ہوتی شعورِ ذاتِ محمد اگر نہیں ہوتا شبِ سیاہ مقدر تھی میرے آنگن کا جو چاند چودھویں کا بام پر نہیں ہوتا میں جب بھی ان کے وسیلے سے مانگتا ہوں دعا کوئی بھی لفظ میرا بے اثر نہیں ہوتا وہ جانتا […]

آپ کا نوکر ہوں میں دنیا میں جنت چاہیے

یا نبی مجھ کو مدینے میں سکونت چاہیے کون لکھ سکتا ہے مدحِ سرورِ کون و مکاں نعت گوئی کے لیے ان کی اجازت چاہیے شاملِ احوال ہے دنیا میں بھی ان کا کرم حشر کے دن بھی ہمیں ان کی شفاعت چاہیے میرے خاکی جسم کا مدفن بنے خاکِ بقیع مال و دولت چاہیے […]