کس کے آگے کون ہے جلوہ نما مت پوچھیے
وجد میں ہے آج کیوں قصرِ دنا مت پوچھیے ابنِ شیبہ اور بی،بی آمنہ کا لاڈلا کیسی آن و بان سے دولہا بنا مت پوچھیے دیکھ کر اک تلواے نورِ مجسم کی جھلک کیوں انھیں جبریل نے لب سے چھوا مت پوچھیے امِ ہانی کے مکاں سے قافلہ اک نور کا کتنی آب و تاب […]