کس کے آگے کون ہے جلوہ نما مت پوچھیے

وجد میں ہے آج کیوں قصرِ دنا مت پوچھیے ابنِ شیبہ اور بی،بی آمنہ کا لاڈلا کیسی آن و بان سے دولہا بنا مت پوچھیے دیکھ کر اک تلواے نورِ مجسم کی جھلک کیوں انھیں جبریل نے لب سے چھوا مت پوچھیے امِ ہانی کے مکاں سے قافلہ اک نور کا کتنی آب و تاب […]

کس قدر ہے دلنشیں اور جاں فزا مت پوچھیے

اس دیارِ نور کا گنبد ہرا مت پوچھیے کیا نظارہ تھا کہ جب اک ہالۂ رحمت میں تھے سیدہ حسنین اور شیرِ خدا مت پوچھیے کارِ مدحِ مصطفیٰ سے بات میری بن گئی دستِ آقا سے مجھے کتنا ملا مت پوچھیے بھیجیے اپنے کریم آقا پہ روز و شب درود اور درودِ پاک پڑھنے کی […]

سر تا بہ قدم ہیں نور فقط دیدار کی حرمت کیا کہنے

جب زُلف گھنیری چھاؤں ہے رخسار کی رنگت کیا کہنے بکتے ہوں جہاں بے دام سبھی سلطان و گدا، سر مستی میں اس کون و مکاں کے سلطاں کے بازار کی ثروت کیا کہنے یہ سچ ہے کہ روزے داروں کو اللہ جزا خود ہی دے گا پر شہرِ نبی میں روزے کے افطار کی […]

مشتمل قدسیوں پر یہ بارات ہے واہ کیا بات ہے

آج محبوب و رب کی ملاقات ہے واہ کیا بات ہے رشک آمیز ہے جس کے تلووں کے دھوون سے حسنِ جناں اُس کی آمد وہاں آج کی رات ہے واہ کیا بات ہے میم سے دال تک خود بہ خود روز ہی چل رہا ہے قلم نامِ نامی سے اُن کے شروعات ہے واہ […]

حُسنِ شاہِ دوجہاں کی غیر ممکن ہے مثال

حُسنِ شاہِ دو جہاں کی غیر ممکن ہے مثال صاحبِ خُلقِ علا ہیں صاحبِ اوجِ کمال وہ لبِ یُوحٰی کے مالک ہیں وہی شمس الضحٰی اُن کی سیرت ہے کہ تفسیرِ کلامِ ذوالجلال اُن کے قدموں کا ہی دھوون حسنِ باغِ خلد ہے صاحبِ کوثر کی زلفِ نم سے ہے آبِ زُلال صدقۂ آلِ عبا […]

فقیر کاسہ بکف ہے آقا صدا لگاتا ہے بہرِ بخشش

لیے ہے سر پر عمل کی گٹھڑی نہیں کچھ اس میں سواے لغزش یہ ایک مدت سے شہرِ ہجر و فراق سے محوِ التجاء ہے یہ ایک مدت سے شہرِ نور و کرم کی دل میں لیے ہے خواہش میں ڈھونڈتا ہوں ہر اک زباں میں، سبھی حروف ان کی شاں کے شایاں ہیں حرف […]

سخن کو نعت کے لمعات سے روشن کیے رکھا

شہِ ابرار کے نغمات سے روشن کیے رکھا سرِ فہرست لکھا والضحی والشمس نُور اللہ اور اپنا نطق ان آیات سے روشن کیے رکھا کیا ہر بات کا آغاز ان کے نامِ عالی سے اور اپنی بات کو اس بات سے روشن کیے رکھا وہ سب لمحے جو شہرِ نور کی یادوں میں گزرے ہیں […]

جونہی سرِّ رفعنا نطق کو تعلیم ہوتا ہے

مری ہر فکر کا مرکز وہ نوری میم ہوتا ہے نگاہیں خم کیے بیٹھوں درِ آقا پہ دو زانوں کہ اس دربار سے رزقِ ثنا تقسیم ہوتا ہے ادائے صیغۂ کن سے ہزاروں سال پہلے ہی وجودِ حضرتِ خیر الورٰی تجسیم ہوتا ہے حجر ان کی گواہی دیں، شجر جھک کر سلامی دیں بہ یک […]

موجزن ہے خوشبوؤں کا اک سمندر واہ واہ

گیسوے آقا ہیں جیسے مشک و عنبر واہ واہ یہ چمکتے اور دمکتے مہر و ماہِ آسماں ہیں منور تیری پیزاروں سے جھڑ کر، واہ واہ چل پڑے سدرہ سے بھی آگے بصد شان و حشم سے جانبِ قصرِ دنیٰ محبوبِ داور ، واہ واہ درمیاں اصحاب کے والشمس کی تابانیاں تارے صدیق و عمر […]

موجزن ہے خوشبوؤں کا اک سمندر واہ واہ

گیسوے آقا ہیں جیسے مشک و عنبر واہ واہ یہ چمکتے اور دمکتے مہر و ماہِ آسماں ہیں منور تیری پیزاروں سے جھڑ کر، واہ واہ چل پڑے سدرہ سے بھی آگے بصد شان و حشم سے جانبِ قصرِ دنیٰ محبوبِ داور ، واہ واہ درمیاں اصحاب کے والشمس کی تابانیاں تارے صدیق و عمر […]