وہ صبحِ منور مکے کی ، وہ جگمگ رات مدینے کی

وہ صبحِ منوّر مکّے کی ، وہ جگمگ رات مدینے کی عمّامہ سنہرے ریشم کا ، چادر نیلے پشمینے کی صحرا سے ندا سی آتی ہے راتوں میں مجھ کو جگاتی ہے یہ دل پر تھاپ کسی دَف کی یہ ہُوک کسی سازینے کی ان اونچے ٹیلوں کے پیچھے کوئی ہجر کا نغمہ گاتا ہے […]

شبِ جدائی کے لمحے اڑان بھرنے لگے

سحر ہوئی تو مدینہ میں ہم اترنے لگے سیہ فراق کا چھلکا ہٹا، سحر پھوٹی سنہری دھوپ کھلی نخل جاں نکھرنے لگے گناہ تھا تو نہیں پر گناہ جیسا لگا جب اس زمین پہ ہم اپنے پاؤں دھرنے لگے وہ سنسناہٹیں تھیں کھنکھناتی مٹی کی کہ جیسے کوری صراحی میں پانی بھرنے لگے ہمارے پاس […]

وہی ہے خوف جو کم مائیگی کا ہوتا ہے

وگرنہ شوق تو نعتِ نبی کا ہوتا ہے میں چاہتا ہوں کہ تشبیب سے گریز کروں اگر تو حکم قصیدہ گری کا ہوتا ہے میں زندہ نعت لکھوں اور زندہ رہ جاؤں وگرنہ فائدہ کیا شاعری کا ہوتا ہے یہ اک سبق بھی پیمبر سے روشنی کو ملا کہ سب سے تیز سفر جسم ہی […]

ہو المُعِزّ

یا عزیز الجبار یا مرے ربِ کریم یہ مرا جسم ترا ، جان تری ، فکر تری قُل ہو اللہ احد ، قبلہ رُو کر دیا چہرہ کہ نہیں قُل ہو اللہ احد ، تیرے سوا کس کو ثبات قُل ہو اللہ احد ، تجھ سے جدا کیسی حیات سانس امید میں ڈھلتی رہے جانے […]

واعظ خطر نہیں مجھے نارِ حجیم کا

ہوں امتی شفیع کا بندہ کریم کا اعدا کے واسطے بھی نہ کی بددعا کبھی اللہ رے مرتبہ ترے خلقِ عظیم کا یوسفؑ کا حسن نوحؑ کی سطوت دم مسیحؑ خلت خلیلؑ کی یدِ بیضا کلیمؑ کا مولا کے قد و زلف و دہن کی مثال ہے مطلب کھلا ہوا ہے الف لام میم کا […]

خدایا مطلعِ موزوں ہے نظمِ کُن فکاں تیرا

فغانِ سازِ ہستی شورِ مرغ صبح خواں تیرا وجودِ دوزخ و جنت گزرگاہِ حق و باطل قیودِ مذہب و ملت طلسم امتحاں تیرا شہود ہستیِ اشیا نقابِ عارضیِ معنی ظہور ہر دو عالم پردۂ رازِ نہاں تیرا کمندِ خاطر عشاق تیرا لطفِ بے پایاں کمیں گاہِ نگاہِ عشق حسنِ بے نشاں تیرا رموزِ ممکن و […]

خدا کو ہے کتنا خیالِ محمد

کیا رد نہ کوئی سوالِ محمد بشر میں کہاں ہے مثالِ محمد جمالِ خدا ہے جمالِ محمد مجھے محو اس درجہ کر دے الہٰی رہے خواب میں بھی خیالِ محمد تمنا ہے یارب کہ اپنے رگ و پے بنیں رشتہ ہائے نعالِ محمد بشر کیا حقیقت سے ان کی ہو واقف خدا ہے خبردارِ حالِ […]

یہ ادنیٰ حمدِ خالق میں ہے آدابِ رقم میرا

کہ چلتا ہے تو سر کے بل ہی چلتا ہے قلم میرا مجھے بھرنے دے سرد آہیں کہ شب بیدار فرقت میں اُڑاتی ہے عبث خاکا نسیمِ صبح دم میرا اذیت پاؤں تکلیفیں اٹھاؤں سختیاں جھیلوں مگر ٹھوکر نہ کھائے راہ میں تیری قدم میرا تری جاں بخشیوں پر بھی ہوں اپنی جان کا دشمن […]

موجِ انفاس کو روانی دے

رات کوئی تو داستانی دے آنکھ منظر کُشا ، نئے پل پل اپنے ہونے کی کچھ نشانی دے حمد لکھوں سنہرے لفظوں میں آبِ زرّیں دے زربیانی دے آٹھواں رنگ جس کا عنواں ہو ایسی تازہ ، نئی کہانی دے نغمے ، طائر ، شجر زمیں پیوست تُو انہیں موسمِ آسمانی دے ہاتھ شل ، […]

مدینے جا کے بھی اب تو مدینہ ڈھونڈتے ہیں لوگ

مجھے جاکر بھی دُکھ ہوگا مِری نظریں وہاں ڈھونڈیں گی جب کچے مکانوں کو نبی ء رحمتِ عالم کے سب اَنمٹ نشانوں کو کبھی جو دھوپ میں موجود تھے ،اُن سائبانوں کو بہار ِ بے خزاں کے مسکنوں ، سب گلستانوں کو درخشندہ مِری تاریخ کے سارے خزانوں کو حبیب ِ کبریا کے سارے حُجروں […]