کیا خدا ہر جگہ نہیں ملتا

ہم جہاں ڈھونڈتے وہیں ملتا وہ ہمیں کس لۓ نہیں ملتا ہر کہیں تھا تو ہر کہیں ملتا سب سے ملتا ہے سب کو ملتا ہے کون کہتا ہے وہ نہیں ملتا دل ہی میں اس کو جستجو ہوتی لطف جب تھا ہمیں یہیں ملتا تھی غرض ہم کو اس کے ملنے کی اس سے […]

از ابد تا ازل خدا تو ہے

ابتدا تو ہے انتہا تو ہے ایک جگنو سے لے کے سورج تک چشمۂ نور ہے ضیاء تو ہے تیری قدرت سے روز و شب کا ظہور ہر نظارے میں رونما تو ہے بحر و بر ہوں کہ آسمان و زمیں ہر طرف تو ہے جا بجا تو ہے ہے مناظر میں ترا عکسِ جمال […]

یہ ادنیٰ حمدِ خالق میں ہے آدابِ رقم میرا

کہ چلتا ہے تو سر کے بل ہی چلتا ہے قلم میرا مجھے بھرنے دے سرد آہیں کہ شب بیدار فرقت میں اُڑاتی ہے عبث خاکا نسیمِ صبح دم میرا اذیت پاؤں تکلیفیں اٹھاؤں سختیاں جھیلوں مگر ٹھوکر نہ کھائے راہ میں تیری قدم میرا تری جاں بخشیوں پر بھی ہوں اپنی جان کا دشمن […]

تری ہی روحِ ازل کا پاکیزہ سلسلہ جسم تک رہا ہے

تجھی سے ہر سانس آ رہا ہے تجھی سے ہر دل دھڑک رہا ہے تری توجہ سے موسموں کو ہُنر کی توفیق مل رہی ہے کہ بیج میں رزق اتر رہا ہے ، ہرا بھرا کھیت پک رہا ہے تری تجلی کے نور میں کائنات کو دیکھتی ہیں آنکھیں ہر ایک چہرے کا عکس تیرے […]

یہ ہم لوگ ، وہ چاند تارے ترے

یہ نظریں تری ، وہ نظارے ترے بیاباں بیاباں ترا آسرا سمندر سمندر سہارے ترے کل انسانیت کو ہے تجھ سے شرف سب اخلاقِ انساں سنوارے ترے ہمیں حق نما ہے تری ذاتِ پاک ہیں ارکانِ دیں استعارے ترے تری مہربانی زماں در زماں کوئی کیسے احساں اتارے ترے نہیں ڈر ہمیں کوئی منجدھار سے […]

جب تیرے حضور سر جھکایا

ہستی کا تمام راز پایا جب دل پہ تجھے محیط پاؤں پھر کیوں سرِ کوہِ طُور جاؤں تو میری وفا کا امتحاں ہے تو میری انا کا پاسباں ہے جب بھی تجھے بے نقاب دیکھوں ہر ذرے میں آفتاب دیکھوں یہ میرا قلم یہ میری دولت شاعر کی حیات کی صداقت یہ تیری ثنا کے […]

اے میری حیات کے سہارے

دل تیرے سوا کسے پکارے تو نورِ ازل کا رازداں ہے تو مہر و وفا کی داستاں ہے تو قلبِ گداز میں مکیں ہے مومن کی حیات کا یقیں ہے پھر بھٹکے ہوؤں کو روشنی دے انساں کو شعورِ بندگی دے پھر تجھ سے عطا کی بھیک مانگوں اُمت کی شفا کی بھیک مانگوں آدابِ […]

منزلِ حق کی جستجو تم ہو

ایک عالم کی آبرو تم ہو گلشنِ صدق و آگہی کے امیں مردِ مومن کی زندگی کا یقیں عزم و ایماں کی بولتی تصویر دینِ کامل کی آخری تحریر قلبِ یزداں میں نورِ تابندہ لوحِ ہستی پہ حرفِ رخشندہ ظلم کی آندھیوں میں ابرِ کرم جہل کی ظلمتوں میں نورِ حرم تجھ کو اے شاہِ […]