خیالِ شہرِ کرم سے یہ آنکھ بھر آئے
جو عکسِ گنبدِ اخضر کہیں نظر آئے مچل کے ہجر کے بندے کا دل کرے فریاد کرم ہو کاسہ بہ کف آپ کے نگر آئے بس ایک میم ہی لکھا تھا بہرِ نعتِ نبی حروف جیسے ورق در ورق نکھر آئے دعاے خیر تھی ڈھارس جو عشق کے بندے پُلِ صراط سے اک جست میں […]