حضور پاک سے جب رشتہ استوار ہوا

ہمارے دل کا یہ صحرا بھی لالہ زار ہوا کرم حضور کی نسبت سے بے شمار ہوا غلامیِ شہِ حق سے میں پُر وقار ہوا نبی کے ذکر سے پائی شفا مرے دل نے درودِ پاک مری روح کا قرار ہوا یہ روشنی کے مناظر ہیں آپ کے دم سے زمانہ آپ کے جلوؤں سے […]

انھی کے نور سے روشن ہے راستہ میرا

خدا کے بعد فقط وہ ہیں آسرا میرا ہر ایک سانس پہ لکھا ہوا ہے نام اُن کا قدم قدم پہ ہے آقا سے واسطہ میرا مدینہ پاک میں روضے کے پاس بیٹھا ہوں کسی نے ملنا ہے مجھ سے تو لے پتا میرا درِ حبیب پہ جانے کی دیر تھی گویا نوازتا ہی گیا […]

میں نے اک نعت لبوں پر جو سجائی ہوئی ہے

اُس کی تاثیر میری روح پہ چھائی ہوئی ہے اس لیے حشر کی سختی سے پریشان نہیں بات سرکار نے پہلے کی بنائی ہوئی ہے حسن کا ایک جہاں ساتھ لیے پھرتا ہوں اُن کی صورت میری آنکھوں میں سمائی ہوئی ہے آپ نے سب کو خساروں سے نکالا ہے شہا آپ آئے ہیں تو […]

وہ اور لوگ ہیں جن کو ہے خشک و تر کی تلاش

ہمیں تو رہتی ہے شاہِ اُمم کے در کی تلاش کبھی تو روضۂ اقدس بھی سامنے ہو گا کبھی تو ہو گی مکمل مری نظر کی تلاش مرے تئیں تو سبھی آپ کی تلاش میں ہیں یہ لوگ جن کو ہے ہر وقت بحر و بر کی تلاش خدا نے کتنی بلندی اُنھیں عطا کی […]

تب ہی تسکینِ جان ہوتی ہے

نعت جب مجھ کو دان ہوتی ہے عاشقوں کے لیے مدینے کی دھوپ بھی سائبان ہوتی ہے شہرِ طیبہ کی پاک گلیوں میں زندگی مہربان ہوتی ہے میرے افکار کے پرندے کی اُن کی جانب اڑان ہوتی ہے راہِ مدحت ہے احتیاط کرو ہر گھڑی امتحان ہوتی ہے بس حقیقت ہے آپ کی عظمت باقی […]

کیا خوب چمک دار ہیں رخسار نبی کے

ہر سمت نظر آتے ہیں انوار نبی کے بس ایک طرح سے ہی بھلائی ہے ہماری ہم خود پہ جو نافذ کریں معیار نبی کے عشّاق کی محفل تو یونہی جاری رہے گی ہر دور میں آئیں گے طلب گار نبی کے ہر اک پہ برستا ہے وہاں فضل خدا کا دن رات جہاں ہوتے […]

میں کہاں اور کہاں مدحتِ سلطانِ حرم

کام آئی ہے مگر نسبتِ سلطانِ حرم وہ بھلا لطف و عنایات و کرم کیا سمجھیں جن کے سینوں میں نہیں الفتِ سلطانِ حرم کارِ مدحت کو کوئی شخص نہ کم تر سمجھے نعت کہنا بھی تو ہے خدمتِ سلطانِ حرم اُن کے رتبے سے بس اونچا ہے خدا کا رتبہ کتنی افضل ہے فدا […]