بے سبب مہکا نہیں ہے خانۂ آزردگاں

دل کے صحرا میں آئی بادِ کوئے مہرباں مطمئن ہے قاصرِ نقدِ عمل ، تو کیا عجب تیری رحمت بے تعطل ، تیری بخشش بیکراں ہو نہیں سکتا تعین جاں سے بڑھ کر قُرب کا معنئ تمثیلِ اَولیٰ ، مہبطِ حذبِ نہاں ! ارضِ طلعت زار پر ہے روشنی ہی روشنی پائے زائز سے لپٹتی […]

ہے کیا مری مجال میں ، ہے کیا مری بساط میں

ترے کرم سے ہُوں شہا ! ثنا کے انضباط میں ابھی تو اذنِ حرفِ نعت بھی عطا ہُوا نہیں ابھی سے ہے خیال خَم حریمِ احتیاط میں وہ بارگاہِ ناز کس قدر کرم نواز ہے ! دُعا ہے انبساط میں ، عطا ہے انبساط میں وہ نام واسطہ ہے صوتِ دل کے انسلاک کا وہ […]

غیر کے بیش سے مطلب ہے نہ کم مانگتے ہیں

صاحبِ خیر و عنایات سے ہم مانگتے ہیں خوار ہوں کیوں کسی محدود تمنا کے سبب مالکِ جملہ نِعَم ! جملہ نِعَم مانگتے ہیں ہم کو ہونا ہے نہاں خانۂ جاں سے روشن ہم کفِ دل پہ ترا نقشِ قدم مانگتے ہیں سطوت و عزت و عظمت کے حوالے یکسر درگہِ ناز سے خیراتِ حشَم […]

ہے خام و خجل خستہ خیالی ، مرے سائیں

ممکن ہے کہاں مدحتِ عالی ، مرے سائیں امکان سے باہر ہی رہی مدح سرائی تدبیر نے جو طرح بھی ڈالی ، مرے سائیں حاضر ہیں ، بصد عجز ، ترے شہرِ کرم میں مَیں اور مرا دامنِ خالی ، مرے سائیں بہہ جاؤں کسی روز کسی سیلِ طلب میں اور دیکھوں ترے روضے کی […]

نہ جوازِ گنبدِ سبز میں ، نہ دیارِ گنبدِ سبز میں

مری ہجر زاد مسافتیں ہیں مدارِ گنبدِ سبز میں وہی تازگی کی نمود ہے ، وہی زندگی کا شہود ہے وہ جو سبزگی سی رواں رواں ہے بہارِ گنبدِ سبز میں کوئی ہست اُس سے جُدا نہیں ، کوئی بُود اُس سے ورا نہیں کہ یہ ممکنات کے سلسلے ہیں حصارِ گنبدِ سبز میں کوئی […]

کافی ہے بہرِ خیر یہ احسانِ پنج تن

نسلوں سے ہُوں غُلامِ غُلامانِ پنج تن تب سے ہُوں بے نیاز ، غمِ روزگار سے جب سے ہے میرے ہاتھ میں دامانِ پنج تن موسم نئی بہار کا ہے کتنا جاں فزا جاری ہے کشتِ شوق پہ بارانِ پنج تن کس کو ہُوئی زحمتِ اظہارِ مدعا رکھتا نہیں ہے کس کی خبر خوانِ پنج […]

ذرہ ذرہ زمیں کا درخشاں ہوا

جس گھڑی جلوہ گر ماہِ تاباں ہوا نُور اوّل کی آمد ہوئی جس گھڑی سارے عالم میں گھر گھر چراغاں ہوا کھل گئے بخت اس کو سعادت ملی جو بھی شہرِ مدینہ کا مہماں ہوا حاضری کا مجھے بھی شرف مل گیا خوش مقدر ہوں پورا یہ ارماں ہوا حجرۂ دل کی خوش بخت دیوار […]

طوفان رنج و غم کے بجھاتے رہے چراغ

یادِ نبی کے دل میں سجاتے رہے چراغ تاریکیاں تھیں چاروں طرف جب جہان میں ان کے غلام تب بھی جلاتے رہے چراغ ظلمت شبِ سیاہ کی گہری تو تھی مگر ’’ہم بھی درود پڑھ کے بناتے رہے چراغ‘‘ سرکار کی غلامی نے بخشا وہ حوصلہ دورِ ستم میں عدل کے لاتے رہے چراغ غارِ […]

’’اس طرف بھی شاہِ والا، بندہ پرور ، دیکھئے‘‘

سخت مشکل میں گھرے ہیں تیرے نوکر دیکھئے یا رسول اللہ ! رحمت کی نظر کا ہے سوال آیا ہے فریاد لے کر در پہ کمتر دیکھئے آپ منگتوں کے سدا دامان بھرتے ہیں شہا ! آپ کے ہوتے ہوئے غیروں کو کیونکر دیکھئے بھیک لینے آ گئے شاہ و گدا دربار میں ہم بھی […]

مدینہ شہر میں اپنا قیام ہو جائے

زیارتوں سے یہ دل شاد کام ہو جائے ترس رہا ہے یہ سرکار ! اذن دے دیجے ’’سلام کے لئے حاضر غلام ہو جائے‘‘ مدینے شہر کی مٹی ملے جو مدفن کو اگرچہ نیچ ہوں ، اونچا مقام ہو جائے مدینے جانے کو آقا، نہیں ہے زادِ سفر جو آپ چاہیں تو سب انتظام ہو […]