تُو عبدِ معظم ہے تری ذات ہے مَحمُود ، اے احمدِ معبودﷻ

تُو عبدِ معظم ہے تری ذات ہے مَحمُود ، اے احمدِ معبود ﷻ تُو مُظہَرِ توحید ہے تُو مَظہَرِ معبود ، اے احمدِ معبود ﷻ تیرا یہ تَشاہُد ، ترے مَشہُود کا ہے صاد ، اے سیدِ اَشہاد تو صادقِ اَصدَق ہے تُوہی شَاہدِ مَشہُود ، اے احمد ِ معبود ﷻ توحیدِ مُجَرَّد سے مُزَیَّن […]

جل گیا ایک عقیدت کا دیا نعت ہوئی

ہو گئی مجھ پہ جو آقا کی عطا نعت ہوئی لفظ و معنیٰ میں الجھنے سے ہمیں کیا مطلب جس گھڑی نام شہِ دیں کا لیا نعت ہوئی انبیاء کرتے ہیں اقرار تِرا مِیرِ اُمم میں نے جب معنئ "میثاق” پڑھا، نعت ہوئی حشر میں پاس مرے غم نہ کوئی آئے گا لب سے میرےجو […]

میں جاہ طلب ہوں نہ کوئی جاہ حشم ہے

اک بندہ ناچیز طلبگارِ کرم ہے تو احمدِ مختار نویدِ بن مریم ہاں تو ہی دعائے دمِ تعمیر حرم ہے موسیٰ کے لئے برق تھی ،میرے لئے قندیل اب وہ ہی تجلّی سرِ دیوار حرم ہے ہے قرّۃ العینین مدینے کا نظارہ فردوس یہی ہے یہی گلزارِ اِرم ہے تسبیح زباں پر ہے کبھی نام […]

زمین اپنی مہ و خورشید اپنا آسماں اپنا

اگر سالار اپنا ہو تو یہ سب کارواں اپنا ترے قدموں تلے پایا ہے ایسا نور مٹّی نے کہ ذرّے بن گئے جس سے مہ و انجم کے آئینے جلو میں ایسے جلوے لے کے محبوبِ خدا ٓیا کہیں حدِ عدم سے بھی پرے تھا کفر کا سایا کبھی جب آب و گل سے بن […]

جرأت سلام از سید خورشید علی ضیاء

السلام اے باعث تجدیدِ وحدت السلام باعثِ تجدیدِ توحید و رسالت ! السلام السلام اے رفعتِ بامِ امامت السلام السلام اے رافعِ عرشِ شہادت السلام محورِ رشد و ہدایت مرکزِ صدق و صفا ابنِ مولودِحرم ! محبوبِ محبوبِ خدا اے کہ تو ناز رسالت، نازشِ دوشِ رسول اے کہ تو دستِ یداللہ ، تو جگر […]

نویدِ طیبہ رسی جب کبھی نہیں آئی

گلِ مراد پہ بھی تازگی نہیں آئی جو بخشے خوابوں کو انوارِ سیدالکونین ہنوز آنکھوں میں وہ نیند ہی نہیں آئی بشر تو اب بھی بھٹکتا ہے ظلمتوں میں یونہی نبی کے دیں کی جہاں روشنی نہیں آئی قریبِ منبرو محراب دل پکار اٹھا ’’چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘‘٭ حصولِ معرفتِ سیدالبشر […]

محمد باعثِ تخلیقِ عالم

بشر پیکر مگر نورِ مجسم وہ نقشِ اولینِ کلکِ قدرت نبوت اور رسالت کے وہ خاتم وہ جن کے دم سے قائم بزمِ ہستی وہ جن کے نور سے روشن دو عالم سنواری جس نے زلفِ آدمیت نکھارا جس نے روئے ابنِ آدم بدلتی رُت، بدلتے موسموں میں بہارِ جاوداں قانونِ محکم عطا ہو قومِ […]

یہ میری آبلہ پائی یہ رہ گزر تنہا

سہارا دے گی مجھے آپ کی نظر تنہا تمہاری یاد نہ ہوتی تو مَیں کہاں جاتا مَیں کیسے کرتا بھلا زندگی بسر تنہا تمہارے در سے نہ ملتی یقین کی دولت گماں کے دشت میں پھرتا میں بے خبر تنہا تمہارے نقشِ کفِ پا کا عکس دل پہ لیے ہجومِ کاہکشاں میں رہا قمرؔ تنہا

آپ ہیں فخرِ دو جہاں آپ ہیں روحِ کائنات

آپ کی ذاتِ پاک ہے باعثِ خلقِ کائنات ان کی ادا نماز ہے ان کا ہر اِک قدم ہے دیں ذکرِ نبی خدا کا ذکر، قولِ نبی خدا کی بات شہرِ رسولِ پاک میں بارشِ نور ہر طرف روضۂ پاک بالیقیں مرکزِ تجلیات ان کا خیالِ پاک ہے فکر و نظر کی زندگی ذکر ہے […]

محمد سیدِ کونین صدر بزم امکانی

نگارِ انجمن شہکار کل تخلیق ربانی حرا کی خلوتوں سے اِک نظامِ زندگی لائے رہے گی تا قیامت اس کلامِ حق کی تابانی نصابِ زندگی ہر دور کے انسان کی خاطر عیاں ہوتے رہیں گے حشر تک اسرارِ قرآنی