فردوس کا نمونہ بہر اعتبار ہے

سرکار کا مدینہ بڑا شاندار ہے حاصل ہوا ہے جب سے شہہ دو جہاں کا غم حاصل ہمارے دل کو سکون و قرار ہے طرز کلام ، طرز تخاطب ، خرام ناز ہر اک ادا حضور کی رحمت شعار ہے کچھ بھی کہوں زبان سے حاجت نہیں مجھے مافی الضمیر ان پہ مرا آشکار ہے […]

کہاں میرے نبی کا کوئی ہمسر کوئی ثانی ہے

جدھر دیکھو بساطِ کن میں انکی وصف خوانی ہے یہ بالکل صاف مفہوم حدیث من راٰنی ہے سراپا آپ کا رب کی بڑی محکم نشانی ہے بہت مسرور تھا مہتاب اپنی ضوفشانی پر ترے تلووں کے آگے میرے آقا پانی پانی ہے تحیر میں خرد ہے عقل و دانش ششدر و حیراں سنا جب سے […]

مری اس کیفیت پر میرے مرشد کی گواہی ہے

جہانِ نعت میں رہنا ثبوتِ بے گناہی ہے نہ مانے اس حقیقت کو جو اس کی کم نگاہی ہے کہ عرفان شہ کونین عرفان الٰہی ہے مسلسل آسماں سے قدسیوں کا کارواں اترے یہ دربار شہ ہر دوسرا کی عز و جاہی ہے تمہاری سلطنت ہے ساری دنیا اور عقبیٰ میں یہاں بھی سربراہی ہے […]

جب وہ محبوب خدا بن کے پیمبر اترا

کاروانِ کرم و لطف زمیں پر اترا آگیا اپنے جلو میں لیے انوارِ یقیں فرش والوں کا جگانے وہ مقدر اترا آئے میزان فضیلت سے نہ جانے کتنے کون سلطان مدینہ کے برابر اترا بحر وحدت کے شناور تو بہت ہیں لیکن اتنی گہرائی میں کوئی نہ شناور اترا رشک صد لعل و جواہر اسے […]

بولیں شجر نبی نبی بولیں حجر نبی نبی

گونجے صدا طرف طرف شام و سحر نبی نبی تازہ جو رہنا ہو تجھے خوب مہکنا ہو تجھے اپنا وظیفہ لے بنا اے گل تر نبی نبی نوک قلم کو چوم کر جھوم رہی ہے وجد میں بام و در خیال پر لکھ کے نظر نبی نبی کہنے لگا نبی نبی عالم خوف میں جو […]

اے کاش دیکھ لوں میں کبھی اس دیار کو

آئے جہاں قرار دلِ بے قرار کو خیرات مل گئی جسے کوئے رسول سے کرتا نہیں سلام کسی تاجدار کو جاؤں گا تیرے واسطے میدانِ حشر تک سینے سے میں لگا کے ترے انتظار کو ہم کیوں نہ چاہیں تیری رضا اے شہہ انام مطلوب ہے رضا تری پروردگار کو تیرے کرم نے حوصلہ بخشا […]

حرم میں بارش انوار دیکھنے چلیے

وہیں ہے مولد سرکار دیکھنے چلیے نظر میں خانۂ کعبہ رہے تو بہتر ہے عبث نہ کوچہ و بازار دیکھنے چلیے منیٰ و وادئ عرفات اور مزدلفہ بلا رہے ہیں تو اس بار دیکھنے چلیے جنون شوق سعی کا لیے ہوئے ہمراہ صفا و مروہ کے آثار دیکھنے چلیے خدا کے فضل سے ارکان حج […]

ناز کعبہ ہیں، فخر قبلہ ہیں

آپ ارفع ہیں آپ اعلیٰ ہیں آج محسوس ہو رہا ہے مجھے میرے سرکار جلوہ فرما ہیں نقش پائے رسول کے آگے ماہ و انجم کی تابشیں کیا ہیں؟ ابر لطف نبی سے ہوں سیراب جس قدر تشنگی کے صحرا ہیں یہ جبین ازل پہ ہے مرقوم بزم کن میں حضور یکتا ہیں جتنے ذرے […]

مسکرانے کا مہینہ آ گیا

دل سجانے کا مہینہ آ گیا غم کے مارے جھوم کر کہنے لگے غم بھلانے کا مہینہ آ گیا جن کی خاطر ہیں بنے دونوں جہاں اُن کے آنے کا مہینہ آ گیا مرحبا ، صلِّ علیٰ کے ہر طرف گیت گانے کا مہینہ آ گیا نفرتیں ساری بھلا کر دوستو! دل ملانے کا مہینہ […]

انتظار اک واقعے کا اس قدر میں نے کیا

انتظار اک واقعے کا اس قدر میں نے کیا جس نے مجھ کو مستعد رکھا سدا گو کہ میں رو رو کے آخر وقت کی دہلیز پر، تھک ہار کر چپ ہوگیا! میں نصیحت کا تمنائی ہمیشہ ہی رہا ایک کے بعد ایک وصف اُن کا سنا جس دم خدیجہؓ سے (یقیں میرا بڑھا!) اے […]