شکر صد شکر یوں بہار آئی

چل پڑی حریت کی پُروائی ایک قائد کی رہنمائی میں قوم کی قوم نے شِفا پائی خوب تعبیر پائی خوابوں کی ایک خطے کی عالم آرائی شب غلامی کی ہم گزار چکے صبحِ آزادیٔ وطن آئی صبحِ آزادیٔ وطن کیسی روشنی انبساط کی لائی وہ مسرت ہے سارے چہروں پر سارا عالم ہوا تماشائی! جذبۂ […]

شرطِ وفا

خزاں کا راج ہے ہر سو مرے خیاباں میں میں اس کی زد میں ہراک پھول ہر شجر دیکھوں گماں یہ ہے کہ مسلسل خزاں ہی پھیلے گی! مگر مجھے تو اُمیدوں کے پھول چننے ہیں مجھے تو سخت مراحل سے اب گزرنا ہے کسیلی شاموں کے کچھ ذائقے بھی چکھنے ہیں زمیں پہ زرد […]

جنابِ حضرتِ حسانؓ بن ثابت کو

جنابِ حضرتِ حسانؓ بن ثابت کو منبر کی سرافرازی سے مالا مال کرکے شعر کی ترغیب دینے والے آقا ضرورت ہے مجھے حرفِ دعا کی کہ میں ’’اَیِّدْ ہُ بِرُوْحِ الْقُدُسْ‘‘ والی دعا سے اُسی انداز سے فیضان پاؤں کہ جیسے آپ کی مدحت نگاری کا قرینہ جنابِ حضرت حسانؓ بن ثابت نے پایا انہیں […]

ضوفشاں ضو بار تیرا آستانہ گنج بخشؒ

منبعِ انوار تیرا آستانہ گنج بخشؒ غمزدوں کی اشک شوئی کر رہا ہے رات دن کس قدر غمخوار تیرا آستانہ گنج بخشؒ تمکنت قائم ہے اس کی آج صدیوں بعد بھی حسن کا شہکار تیرا آستانہ گنج بخشؒ جان و دل کی راحتوں کا ہے مری سامان یہ دلبر و دلدار تیرا آستانہ گنج بخشؒ […]

اب اور نہ تڑپاؤ مدینے کی ہواؤ

مجھ کو بھی لیے جاؤ مدینے کی ہواؤ پیغامِ حضوری کو ترستا ہوں میں کب سے کچھ کان میں کہہ جاؤ مدینے کی ہواؤ آقا ہیں جہاں میرے وہ دربار ہے کیسا کچھ تو مجھے بتلاؤ مدینے کی ہواؤ سینے میں بہت آج تڑپتا ہے مرا دل ایسے میں چلی آؤ مدینے کی ہواؤ خوشبو […]

آئینہ بنے گا خود بخود میرا اعتبار کیجیے

عشق سرور مدینہ میں دل کو بیقرار کیجیے آمد رسول پاک کا ذکر بار بار کیجیے جادۂ وفا سجائیے اور مشک بار کیجیے ظلم کی اُڑیں گی دھجیاں رنج کی چھٹیں گی بدلیاں وہ بھی دن ضرور آئے گا تھوڑا انتظار کیجیے ایک لمحہ بھی نہیں سکوں کہتا ہے مرا دلِ حزیں چل کے اب […]

جب یہ سوچا شہ دیں مجھ کو سنبھالے ہوئے ہیں

وادیِ فکر میں یک لخت اجالے ہوئے ہیں پیرہن آتش عصیاں کو بنائے ہوئے ہم مغفرت کے لیے وہ راہ نکالے ہوئے ہیں اس لیے چہرے ہیں اولاد نبی کے روشن اپنے شانوں پہ قبا نور کی ڈالے ہوئے ہیں ان کو بوبکر و عمر کہیے کہ عثمان و علی جتنے کردار ہیں سرکار کے […]

خلوتِ جاں میں بھی عزیزؔہم تو اک انجمن ہوئے

خلوتِ جاں میں بھی عزیزؔ ہم تو اک انجمن ہوئے شہرِ نبی کے ہجر میں دل سے عجب سخن ہوئے داغِ قُروحِ ضبطِ شوق یاد میں جب اُبھر گئے کِھل کے گلاب کی طرح مدحِ نبی کا فن ہوئے شاہِ زمن کی انجمن دھیان میں جب بھی آگئی پھیل کے اشکِ خونِ دل پھول بنے، […]

کاش دیکھوں میں بھی کوئی روشن و بیدار خواب

آمدِ آقا سے بن جائے گل و گلزار خواب جاگتی آنکھوں سے طیبہ دیکھنا اچھا لگا ماہِ طیبہ کے بھی دکھلا دے کبھی انوار خواب اُمِّ معبد نے جو دیکھا دیدۂ بیدار سے اُس جمالِ مصطفی سے ہو کبھی ضَو بار خواب لفظ میں سچائیوں کے رنگ بھر جائیں عزیزؔ جب بھی پائیں شعر کے […]