ریت گھڑی

(لمبی اداسی تان کے چپ سو گیا ہے وقت) ٹھہری ہے ایک نقطے پہ گزرانِ روز و شب خود اپنی گردشوں میں کہیں کھو گیا ہے وقت گرتا ہے ریزہ ریزہ سا لمحوں کا ریگزار شیشے کے ایک ظرف میں گم ہو گیا ہے وقت اُلٹے گا ریگزار یہ دورانیے کے بعد پھر سے پلٹ […]

سجا کے چہرے پہ بیگانگی نہیں ملنا

مجھے مِلو تو کبھی سرسری نہیں ملنا ہمارے جیسے تو مل جائیں گے ہزاروں تمہیں تمہارے جیسا ہمیں ایک بھی نہیں ملنا یہی سبق ہے محبت کا اول و آخر جسے تلاش کرو گے وہی نہیں ملنا وہ جا رہا ہے سو جی بھر کے دیکھ لو فارس پھر اِس کے بعد یہ موقع کبھی […]