یہ دل کی راہ چمکتی تھی آئنے کی طرح
گزر گیا وہ اِسے بھی غبار کرتے ہوئے
معلیٰ
گزر گیا وہ اِسے بھی غبار کرتے ہوئے
اب آرزو ہے ساتھ مرے مصلحت رہے
آنکھوں میں ثبت ہو گئی خوابوں کی تشنگی
وہ ہم نہیں جو ترستے ہوں سائبان کے لیے
دکھ سے مسرتوں کا سمندر تراشنا
کہ آسمان پہ خود لے گیا خدا مجھ کو
آئینۂ نگاہ کو حیران کر گیا میں شہرِ دوستی ہوں مرے دوستو مجھے آباد کر گیا کوئی ویران کر گیا دل کی جراحتیں جو کبھی مندمل ہوئیں وہ مبتلائے حسرت و ارمان کر گیا
(لمبی اداسی تان کے چپ سو گیا ہے وقت) ٹھہری ہے ایک نقطے پہ گزرانِ روز و شب خود اپنی گردشوں میں کہیں کھو گیا ہے وقت گرتا ہے ریزہ ریزہ سا لمحوں کا ریگزار شیشے کے ایک ظرف میں گم ہو گیا ہے وقت اُلٹے گا ریگزار یہ دورانیے کے بعد پھر سے پلٹ […]
راہ آسان کی محبت نے دین و دنیا بھلا دیئے ہیں مجھے ایک انسان کی محبت نے مجھ کو لاہور کا نہ ہونے دیا شہر ملتان کی محبت نے
مجھے مِلو تو کبھی سرسری نہیں ملنا ہمارے جیسے تو مل جائیں گے ہزاروں تمہیں تمہارے جیسا ہمیں ایک بھی نہیں ملنا یہی سبق ہے محبت کا اول و آخر جسے تلاش کرو گے وہی نہیں ملنا وہ جا رہا ہے سو جی بھر کے دیکھ لو فارس پھر اِس کے بعد یہ موقع کبھی […]