میں نے پی صہبائے عرفاں ہر تجلی گاہ سے
ایک ہی ساقی تھا جو میخانہ در میخانہ تھا
معلیٰ
ایک ہی ساقی تھا جو میخانہ در میخانہ تھا
کہ میرے دوست کا احساں ہے زندگی میری
دل ہی کھینچے لیے جاتا ہے سرِ راہ گزار
حرم و دِیر کی تفریق مٹا دے ساقی
ساری زمیں ہے میرا گھر ، سارا جہاں میرا وطن
دِیر ملے تو سر جھکا ، کعبہ ملے سلام کر
وہ ہے چراغِ انجمن ، یہ ہے چراغِ رہ گزر
عشق ملا قدم قدم ، حسن ملا نظر نظر
وہم و گماں ازل میں تھی ، وہم و گماں ہے آج بھی
بقا کے لیے میں فنا چاہتا ہوں