تماشا ختم ہوا اے تماشا گر خاموش

کہ موت سامنے ہے اب تو میرے ڈر خاموش فلک کے چاند اترنا ہے، تو اتر خاموش کہ میرا صحن ہے خاموش، میرا گھر خاموش یہاں پہ کوئی بھی سچ سن کے رہ نہیں سکتا اے میرے ہونٹو! رہو چپ، مرے ہنر! خاموش کہ ناخدا کو دلاؤ نہ اس طرح سے طیش الٹ نہ جائے […]

دیے ساقی نے مجھ کو چند جام آہستہ آہستہ

ہوا یہ دور مے آخر تمام آہستہ آہستہ کرے گر کوئی یوسف ہو کے زنداں میں شکیبائی عزیز مصر ہو اس کا غلام آہستہ آہستہ ادب سے سر جھکا کر قاصد اس کے روبرو جانا نہایت شوق سے کہنا پیام آہستہ آہستہ ترقی ہوتی جاتی ہے اگر واقف نہ ہو سالک چلے منزل تو پاتا […]

کیا بتلائیں بعد کسی کے آنکھوں میں کیا کیا رکھا ہے

ساری عمر نبھانا ہے جو ایسا وعدہ رکھا ہے اس کی آنکھ نے خوابوں کی تعبیریں ایسے ڈھونڈیں تھیں جیسے لوحِ حیات پہ اک کاغز کورا سا رکھا ہے چشمِ کشائی کا لمحہ تو ایسا نازک لمحہ تھا ہر سائل کے ہاتھوں پر اپنا ہی کاسہ رکھا ہے رنگ و نور کی یہ محفل تو […]

ضرب آخری جو مثل قیامت ہے ابھی تک

یعنی کہ ترا وار سلامت ہے ابھی تک ؟ وہ سامنے آ کر بھی ملاتا نہیں آنکھیں اپنے کیے پر اس کو ندامت ہے ابھی تک یعنی کہ ترے ذکر میں جو چین کی ہے وجہ وہ پیار کی سینے میں علامت ہے ابھی تک یہ کون ہے صدیوں سے جو سجدے میں مصروف یہ […]

نہ مر سکے گا یہ اس بار بھی سکون کے ساتھ

دسمبر آ کے ملایا ہے جس نے جون کے ساتھ وہ گلستان کی صورت ہرے بھرے ہیں آج جو پھول بوٹے بنائے تھے میں نے خون کے ساتھ کہ دشت میں بھی اکیلا رہا میں ساری عمر نہ چل سکی تری وحشت مرے جنون کے ساتھ میں گھر میں ساتھ ہوں سب کے مگر اکیلا […]

آزادی

جہانِ تیرگی میں روشنی ہے آزادی سو خوش نصیب وہ، جن کو ملی ہے آزادی خدایا ! شکر ادا جس قدر کریں کم ہے وطن کے نام پہ ہم کو جو دی ہے آزادی نہیں تھا اتنا بھی آسان یہ وطن لینا جگر کا خون دیا ہے تو لی ہے آزادی کہ ان کا نام […]

ایک کلک

وہ ناتواں قدموں سے چل رہا تھا دور سے جس نے اسے دیکھا وہ سمجھا جھولتا ہوا یہ شخص نشئی ہے ارے یہ کیا ہوا وہ تو مر گیا ہے اس کے گرد گھیرا ڈالتے ہجوم میں سے آواز آئی   مجھے یاد آیا اسے میں نے صبح گول چوک میں سڑک کراس کرتے اپنی […]

جلا رہے ہیں زندگی سے یہ نصیب کا چراغ

ہوائے تند! رک! بجھا نہ تو غریب کا چراغ درِ رسول پر جھکا ہوا ہوں پھر سے کبریا! عطا ہو خاک زاد کو ترے حبیب کا چراغ جہاں میں جس نے روشنی کو زاویے کئی دیے کہ اس جہاں میں کیوں بجھے گا اس ادیب کا چراغ تم اپنی اپنی ذات سے الجھ کے ہو […]