مری اداسی کا نقش پا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل

یہ غم کی راتوں کو جانتا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل کسی کی آنکھوں میں دھیرے دھیرے اتر رہا ہے نمی کا بادل قلم سے کس کے نکل رہا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل شکستہ کاغذ پر آنسوؤں کا بنا ہوا ہے جو ایک تالاب وہ میری آنکھوں سے بہہ رہا ہے اداس […]

گلی گلی میں اتر چکے ہیں کتاب آنکھوں کے زندہ نوحے

حسین چہروں کا سرخ ماتم شراب آنکھوں کے زندہ نوحے زمیں کے سینے میں زندہ ہیں جو اگر سماعت ہے سن سکو تو مری نگاہوں سے آج سن لو حجاب آنکھوں کے زندہ نوحے کہ میری غزلوں میں میری نظموں میں کرب آ کر سمٹ گیا ہے مرے قلم سے نکل رہے ہیں جناب آنکھوں […]