پہلے انا رہی تھی سدا ساتھ میرے ، پر
اب آرزو ہے ساتھ مرے مصلحت رہے
معلیٰ
اب آرزو ہے ساتھ مرے مصلحت رہے
سنئے کچھ ذکرِ صنم یا دیکھیے
بیداد گرو دادِ وفا کیوں نہیں دیتے رکھو گے کٙشاکش یہ شب و روز میں کب تک تم اپنی انا ہی کو مٹا کیوں نہیں دیتے
اب ہماری ذات کا منظر بدلنا چاہیے پتھروں میں زندگی کی لہر دوڑانے کے بعد برف جیسی رات کا منظر بدلنا چاہیے
آنکھوں میں ثبت ہو گئی خوابوں کی تشنگی
وہ ہم نہیں جو ترستے ہوں سائبان کے لیے
دکھ سے مسرتوں کا سمندر تراشنا
دشت جاں میں صلیب انا پر لٹکتے ہوئے سر بریدہ خیالات کی سسکتی ہوئی سرگوشیوں میں فنا اور بقا لمحۂ تقسیم میں منجمد ہو چکے اے میرے خدا
یہ غم کی راتوں کو جانتا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل کسی کی آنکھوں میں دھیرے دھیرے اتر رہا ہے نمی کا بادل قلم سے کس کے نکل رہا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگل شکستہ کاغذ پر آنسوؤں کا بنا ہوا ہے جو ایک تالاب وہ میری آنکھوں سے بہہ رہا ہے اداس […]
حسین چہروں کا سرخ ماتم شراب آنکھوں کے زندہ نوحے زمیں کے سینے میں زندہ ہیں جو اگر سماعت ہے سن سکو تو مری نگاہوں سے آج سن لو حجاب آنکھوں کے زندہ نوحے کہ میری غزلوں میں میری نظموں میں کرب آ کر سمٹ گیا ہے مرے قلم سے نکل رہے ہیں جناب آنکھوں […]