ساجد تجھے مسجود سمجھ لیتا ہے
عابد تجھے معبود سمجھ لیتا ہے حیراں ہوں کہ توحید کا قائل یونکر اپنے کو بھی موجود سمجھ لیتا ہے
معلیٰ
عابد تجھے معبود سمجھ لیتا ہے حیراں ہوں کہ توحید کا قائل یونکر اپنے کو بھی موجود سمجھ لیتا ہے
مرحبا ،محبوبِ رب العالمیں مسجد میں ہیں جلوہ فرما رحمۃ للعالمیں مسجد میں ہیں ہیں تنِ تنہا، نہیں ہے کوئی بھی تو اِن کے پاس روشنی میں اِن سے پا لوں ، دل میں یہ جاگی ہے آس حاضرِ خدمت ہوئے بوذر بہت کچھ سوچ کر چاہتے تھے وہ سمیٹیں ، اپنے دامن میں گُہر […]
ہر سمت نجومِ پُر شرر جلتے ہیں شہبازِ تخیل کی رسائی معلوم اس راہ میں جبریلؑ کے پر جلتے ہیں
کون اس میں مکیں ہے تن کی بستی کیا ہے گو پُر ہو شرابِ پرتگالی سے مگر مینا کو خبر نہیں کہ مستی کیا ہے
دنیا پہ وجود بن کے چھایا ہے خیال تکوینِ جہاں کا راز اتنا ہے فقط اللہ کے دل میں ایک آیا ہے خیال
رنجور کو شافی سے شفا ملتی ہے فانی کی محبت میں فنا ہے اے دلؔ باقی کی محبت میں بقا ملتی ہے
تھکے ماندے مسافر کو بھی سستانے نہیں دیتے
رحم ترا ، کرم ترا ، قہر ترا ، غضب ترا
نہ پڑے بال مگر ایک بھی آئینے میں
مر کر بھی کوئی قید سے آزاد ہوا ہے