ناامیدی میں نظر تھی وقتِ نیرنگ امید
ڈوبنے والے کو اک تنکا بھی ساحل ہو گیا
معلیٰ
ڈوبنے والے کو اک تنکا بھی ساحل ہو گیا
دو قدم اور جو آگے بڑھے ویرانے سے
میں جو مرتا ہوں تو پھر مجھ کو جلا دیتے ہیں یہ ستارے ، یہ غبارے ، یہ شرارے ، یہ حباب اور ہی ہستیِ فانی کا پتا دیتے ہیں
ہوتا ہے پھر بھی کوئی کشیدہ اگر تو ہو
موت سے بڑھ کے ہے جذبات کی تحقیر مجھے
اُٹھا نہ اک قدم بھی مگر رہنما کے ساتھ
یا بجلیاں رہیں گی یا آشیاں رہے گا
چراغِ صبح نہیں آفتابِ شام ہوں
کوئی تعمیر در و بام سے آگے نہ بڑھی
کھلنے کو پھول لاکھ کھلے ہیں بہار میں