تیز جب گردش حالات ہوا کرتی ہے

روشنی دن کی سیہ رات ہوا کرتی ہے رنج اور غم کی جو برسات ہوا کرتی ہے دولت عشق کی خیرات ہوا کرتی ہے جب خیالوں میں دبے پاؤں وہ آ جاتا ہے وہ ملاقات ملاقات ہوا کرتی ہے اس کی خاموشی بھی طوفاں کا پتا دیتی ہے اس کی ہر بات میں اک بات […]

وہ ہے اپنا یہ جتانا بھی نہیں چاہتے ہم

دل کو اب اور دکھانا بھی نہیں چاہتے ہم آرزو ہے کہ وہ ہر بات کو خود ہی سمجھے دل میں کیا کیا ہے دکھانا بھی نہیں چاہتے ہم ایک پردے نے بنا رکھا ہے دونوں کا بھرم اور وہ پردہ ہٹانا بھی نہیں چاہتے ہم تہمتیں ہم پہ لگی رہتی ہیں لیکن پھر بھی […]