منتظر نگاہوں کی حسرتیں رُلاتی ہیں
غم نہیں رُلاتے ہیں خواہشیں رُلاتی ہیں
معلیٰ
غم نہیں رُلاتے ہیں خواہشیں رُلاتی ہیں
در بدر پھرتا ہے کوئی چین پانے کے لیے
دل کو اب اور دکھانا بھی نہیں چاہتے ہم تہمتیں ہم پہ زمانے نے لگائیں لیکن ہم ہیں پاکیزہ بتانا بھی نہیں چاہتے ہم
جستجو در بدر پھری صحرا کو گھر کرنے کے بعد قربتوں کے سبز منظر زرد کیسے ہوگئے میرے ہاتھوں کی دعا کو بے اثر کرنے کے بعد
زندگی لکھی گئی ہے خود کشی کے نام پر
پھر بھی میں لکھی گئی ہوں بے گھری کے نام پر
اب یہ غنچے کبھی شاداب نہیں ہونے کے
سر سے چادر سرک گئی ہے کیا
شام ہوتے ہی پلٹ آئے گا گھر جانتا ہے
میں حقیقت تھی مگر وہ داستاں تک لے گیا