جو رنگ ہرے تھے وہ دکھائی نہیں دیتے
دکھ درد ہی پیڑوں کو رہائی نہیں دیتے برباد کیا یوں میرے گلشن کو خزاں نے اب گیت پرندوں کے سنائی نہیں دیتے کچھ اور بڑھا دے نہ ستم باغ کا مالی سہمے ہوئے طائر ہیں دہائی نہیں دیتے آنے کو قیامت ہے کوئی اپنے جہاں پر حالات مجھے ٹھیک دکھائی نہیں دیتے جن لوگوں […]