حاصل ہے مجھے نشاط پیہم تجھ سے
پر نور ہے میری چشم پرنم تجھ سے زندہ میں ترے بغیر کس طرح رہوں رشتہ ہر سانس کا ہے محکم تجھ سے
معلیٰ
پر نور ہے میری چشم پرنم تجھ سے زندہ میں ترے بغیر کس طرح رہوں رشتہ ہر سانس کا ہے محکم تجھ سے
چادر تاریکیوں کی پھیلاتا ہے بکھرا کے سحر کا نور گلشن گلشن ہر پیکر گل میں جان دوڑاتا ہے
صحرا کو ہمسر چمن تو نے کیا پانی کو کیا ہے تو نے آئینہ صفت پتھر کو گوہر عدن تو نے کیا
غنچے کی چٹک میں نغمہ ساز ترا واللیل اذا سجی ادا ہے تیری والصبح اذا تنفس انداز ترا
تو قلزم بے کنار، میں ایک حباب ہیں تیرے طلوع سے ازل اور ابد ہے میرے غروب سے زمانوں کا حجاب
یہ فانوس مظفرؔ صاحب کیا کیا رنگ بدلتے ہیں
جس نے چھوڑا مجھے، میں نے بھی اسے چھوڑ دیا اتنا کافی ہے کہ میرا تھا تو بس میرا تھا اب کسی اور کا ہے بھی تو رہے، چھوڑ دیا گھر بھی، دفتر بھی، محبت بھی، سخن دانی بھی اس سے کچھ بن نہیں پایا تو مجھے چھوڑ دیا میں کہوں یا نہ کہوں یاد […]
سو اب کے بعد وہ مجھ سے جدا نہیں ہو گا بروزِ حشر ہم ایسے ملیں گے آپس میں ہمارے بیچ میں کوئی خدا نہیں ہو گا ہماری سمت سے آواز سی کٹے گی اور پھر اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہو گا مری طرح تو کوئی پا نہیں سکے گی اسے وہ اس […]
ہمت چور ، ڈگر انجانی ، ڈگمگ پاؤں ، پھسلتی ریت
ہیرا ہیں مگر غم کی انگوٹھی میں جڑے ہیں