یوں ہی شعلے کو ہوا دیتا جا

اپنے ہونے کا پتہ دیتا جا بے رُخی یوں نہ برت کام کے بعد کچھ نہیں ہے تو دعا دیتا جا چوٹ دینے میں بھی کچھ لگتا ہے تو بھی کچھ نامِ خدا دیتا جا سنگریزوں کا بھی حق ہے تجھ پر خون ، اے آبلہ پا دیتا جا سربلندی تو مری فطرت ہے سر […]

مت پوچھئیے کہ راہ میں بھٹکا کہاں کہاں

روشن میں میرے نقشِ کفِ پا کہاں کہاں تِریاک اپنے زہر کا اپنے ہی پاس تھا ہم ڈھونڈتے پھرے ہیں مداوا کہاں کہاں لمحوں کے آبشار میں اک بلبلہ ہوں میں کیا سوچنا کہ جائے گا جھرنا کہاں کہاں تکیے پہ محوِ خواب ، تہہِ تیغ ہے کہیں لَو دے رہا ہے شعر ہمارا کہاں […]