مٹی اور پسینہ مل کر خوشبو دینے لگتے ہیں
یوں سب کو مٹی ہونا ہے عالم کیا اور جاہل کیا
معلیٰ
یوں سب کو مٹی ہونا ہے عالم کیا اور جاہل کیا
مسافر شب سے اٹھتے ہیں ، جو جانا دور ہوتا ہے ہماری زندگانی حشرؔ مٹی کا کھلونا ہے اجل کی ایک ٹھوکر سے جو چکنا چور ہوتا ہے
شعلہ ہوں مگر آنکھوں کو نم رکھتا ہوں دنیا مرے زخموں پہ چھڑکتی ہے نمک مجبور ہوں کاغذ پہ قلم رکھتا ہوں
جرم و گنہ کے بوجھ سے ورنہ گرے گا منہ کے بل
میں اکثر سوچتا رہتا ہوں اے کونین کے مالک تری جنت مدینے سے کہاں تک مختلف ہو گی
اپنے ہونے کا پتہ دیتا جا بے رُخی یوں نہ برت کام کے بعد کچھ نہیں ہے تو دعا دیتا جا چوٹ دینے میں بھی کچھ لگتا ہے تو بھی کچھ نامِ خدا دیتا جا سنگریزوں کا بھی حق ہے تجھ پر خون ، اے آبلہ پا دیتا جا سربلندی تو مری فطرت ہے سر […]
روشن میں میرے نقشِ کفِ پا کہاں کہاں تِریاک اپنے زہر کا اپنے ہی پاس تھا ہم ڈھونڈتے پھرے ہیں مداوا کہاں کہاں لمحوں کے آبشار میں اک بلبلہ ہوں میں کیا سوچنا کہ جائے گا جھرنا کہاں کہاں تکیے پہ محوِ خواب ، تہہِ تیغ ہے کہیں لَو دے رہا ہے شعر ہمارا کہاں […]
یہ میری شاعری اے حشرؔ شرحِ دردِ الفت ہے وہی سمجھیں گے اس کو جو زبانِ دل سمجھتے ہیں
کہ شاعر وہ شجر ہے حشرؔ جلتا ہے تو پھلتا ہے
بادلو ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لیے