یہ تو مئے انگور ہے کیا بات ہے اس کی
تو زہر بھی ہاتھوں سے پلائے تو مزا دے
معلیٰ
تو زہر بھی ہاتھوں سے پلائے تو مزا دے
چار سو جلوۂ لَولَاکَ لَما رقص میں ہے والقلم ! سلسلۂ ارض و سما رقص میں ہے لیلة القدر میں خورشید بکف ہے جبریلؑ جبل النُور پہ خود نورِ ہدیٰ رقص میں ہے صبحِ تہذیبِ طریقت کی اذاں سے پہلے ہمہ تن کار گہِ قدر و قضا رقص میں ہے عرشِ اعیان کی لے فرش […]
روشن اخلاق اور روشن انفاس سلطان ادراک، شہ فکر و شعور ہر وصف پیمبر ہے ایماں کی اساس
ہر دور کے سلطان وہی ہیں اے دل سبحان اللہ سب زمانوں پہ محیط پیغمبر حال و ماضی و مستقبل
قدموں کو در نبی پہ ٹھہراتے ہی دل کا سب میل دھل گیا ہے خالد سرکار کی بارگاہ میں آتے ہی
وہ نقش جاوداں تھے جو پتھر میں رہ گئے
خوشا اے زندگی خوابوں کی دنیا چھوڑ دی میں نے
اب تو ہر موجِ بلا تحفۂ خوں مانگتی ہے
دل ہمارا جس پہ آیا تھا وہ انساں کون تھا
صداقت کی رجز خوانی کے دن ہیں