اچھا ہے کسی طرح کٹے بھی شبِ فرقت
اے دل میں تجھے ، تو مجھے الزام دئیے جا ڈر ہے کہ کہیں سعی کی طاقت بھی نہ لے لے قسمت کو دعا کوششِ ناکام دئیے جا
معلیٰ
اے دل میں تجھے ، تو مجھے الزام دئیے جا ڈر ہے کہ کہیں سعی کی طاقت بھی نہ لے لے قسمت کو دعا کوششِ ناکام دئیے جا
خانماں برباد ہو کے رنج و غم دیکھا کیے سر ہوئے تیغِ عداوت سے قلم دیکھا کیے تم نے کیں لاکھوں جفائیں اور ہم دیکھا کیے
حشرؔ یہ کالی گھٹائیں اور توبہ کا خیال تم یہیں بیٹھے رہو میں سوئے میخانہ چلا
اثر دعا کیلئے ہے دعا اثر کے لئے
آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے
تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیے علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیے بس اک نظر تیری کافی ہے عمر بھر کے لیے
آدمی کیا وہ جسکی بات نہیں
اتنا اتنا نرخ اخلاصِ وفا بڑھتا گیا چاند تو اہلِ زمیں کی زد میں آ پہنچا مگر دل سے دل کا فاصلہ بڑھتا گیا ، بڑھتا گیا
دل کی دھرتی اب بھی پیاسی ، جانے یہ کیا بات ہوئی روز و شب کے کوہ تراشیں ، روز کا یہ معمول ہوا مر مر کر اب صبح کریں گے ، تڑپ تڑپ کر رات ہوئی
تب سے جب جب بادل دیکھے ، دل میں اک ڈر بیٹھ گیا کیسا خستہ ، کیسا شکستہ اپنی ذات کا ایواں تھا ابھی ابھی دیوار گری تھی اور ابھی در بیٹھ گیا