شعروں کے یہ تیر مظفر چڑھی کمانیں غزلوں کی
شعروں کے یہ تیر مظفرؔ چڑھی کمانیں غزلوں کی تم جس لہجے میں کہتے ہو شمشیر اور سناں کیا ہے
معلیٰ
شعروں کے یہ تیر مظفرؔ چڑھی کمانیں غزلوں کی تم جس لہجے میں کہتے ہو شمشیر اور سناں کیا ہے
اگر بے ساختہ نالہ کوئی نکلا میرے دل سے ہزاروں معجزے ہوتے ہیں ظاہر حضرتِ دل سے کہ یوسفؑ مصر میں کھینچ کر گئے ہیں بیس منزل سے جلائے جاؤ پروانوں کی صورت اہلِ الفت کو سبق تم نے یہ اچھا لے لیا ہے شمعِ محفل سے یہی معراجِ مجنوں تھی کہ مجنوں ہو گیا […]
گریباں ہاتھ میں ہوتا ، گلے میں آستیں ہوتی
مجھے ہمراہ لیے جاتے ہیں موسیٰ دشتِ ایمن کو
یوسفؑ سے پارسا سے ہمیں یہ گماں نہ تھا
یہ چار ماتمی تو فقط گھر کے ہو گئے
کرنا پڑتا ہے وضو کر کے تیمم مجھ کو
سائلؔ بھی لوگ کہتے ہیں نواب بھی ہمیں بے آبرو بھی ہم ہوئے تو آبرو کے ساتھ
شکوے کا کوئی حرف نہ منہ سے نکل گیا سچ بات کی تو شوخ کا تیور بدل گیا دامن جو تھاما ، جامے سے باہر نکل گیا میں نے تو ضبطِ عشق میں کچھ کوتہی نہ کی نہ جانے کیسے آنکھ سے آنسو نکل گیا پستی میں کچھ یہ ہستی ہے انسان کی بھلا مہماں […]
بوتل کو توڑ ڈالیے ، پیمانہ ہو گیا جب چار مل کے بیٹھ گئے بزمِ عیش ہے دو چار خُم لنڈھا دئیے ، میخانہ ہو گیا