کہے دیتے ہیں گھبرا کر نکل آؤ گے محفل سے

اگر بے ساختہ نالہ کوئی نکلا میرے دل سے ہزاروں معجزے ہوتے ہیں ظاہر حضرتِ دل سے کہ یوسفؑ مصر میں کھینچ کر گئے ہیں بیس منزل سے جلائے جاؤ پروانوں کی صورت اہلِ الفت کو سبق تم نے یہ اچھا لے لیا ہے شمعِ محفل سے یہی معراجِ مجنوں تھی کہ مجنوں ہو گیا […]

وہ تو یہ خیر ہو گئی جلدی سنبھل گیا

شکوے کا کوئی حرف نہ منہ سے نکل گیا سچ بات کی تو شوخ کا تیور بدل گیا دامن جو تھاما ، جامے سے باہر نکل گیا میں نے تو ضبطِ عشق میں کچھ کوتہی نہ کی نہ جانے کیسے آنکھ سے آنسو نکل گیا پستی میں کچھ یہ ہستی ہے انسان کی بھلا مہماں […]