اُس زلف کا اعجاز کسی کام نہ آیا
میں رندِ بلا نوش تہہِ جام نہ آیا کل رات معمائے خمِ کاکلِ خوباں جب تک نہ ہوا حل ، مجھے آرام نہ آیا اُس بندِ قبا کا جو ہوا مسئلہ درپیش مے خوار کا کوئی بھی ہنر کام نہ آیا اُس رات ستاروں میں بھی دیکھا گیا ٹھہراؤ جس رات کو گردش میں مرا […]