اُس زلف کا اعجاز کسی کام نہ آیا

میں رندِ بلا نوش تہہِ جام نہ آیا کل رات معمائے خمِ کاکلِ خوباں جب تک نہ ہوا حل ، مجھے آرام نہ آیا اُس بندِ قبا کا جو ہوا مسئلہ درپیش مے خوار کا کوئی بھی ہنر کام نہ آیا اُس رات ستاروں میں بھی دیکھا گیا ٹھہراؤ جس رات کو گردش میں مرا […]

ہم آہوان شب کا بھرم کھولتے رہے

میزان دلبری پہ انہیں تولتے رہے عکس جمال یار بھی کیا تھا کہ دیر تک آئینے قمریوں کی طرح بولتے رہے کل شب ہمارے ہاتھ میں جب تک سبُو رہا اسرار کِتم راز میں پَر تولتے رہے کیا کیا تھا حل مسئلۂ زندگی میں لطف جیسے کسی کا بند قبا کھولتے رہے ہر شب شبِ […]

اصلاحِ اہلِ ہوش کا یارا نہیں ہمیں

اس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیں ہم مے گُسار بھی تھے سراپا سخا و جود لیکن کبھی کسی نے پکارا نہیں ہمیں دل کے معاملات میں کیا دوسروں کو دخل تائیدِ ایزدی بھی گوارا نہیں ہمیں رندِ قدح گسار بھی ہیں بُت پرست بھی قدرت نے کس ہُنر سے سنوارا نہیں ہمیں دردِ […]

پیدا ہر ایک پیچ میں اک بات ہو گئی

کل شب وہ زلف حرف و حکایات ہو گئی وقفِ امورِ خیر رہی سرزمینِ دل بت خانہ اٹھ گیا تو خرابات ہو گئی پہنچے جو بے خودی کے مراتب کو حسن و عشق دونوں میں رات بھر کو مساوات ہو گئی اپنے محیطِ ذات میں گُم ہو گئے جو ہم اک ذاتِ بے کراں سے […]