جام اٹھا کر کیجیے رقص ابرِ نیساں کی طرح
جو صدف آئے نظر اُس میں گُہر رکھ دیجیے
معلیٰ
جو صدف آئے نظر اُس میں گُہر رکھ دیجیے
کچھ سرِ تختۂ گُل طے ہو گا
صبا کی طرح بھٹکتے ، جو جستجو کرتے
جس سے ترے دھوکے میں ہم آغوش رہے ہم
کل رات ناگہاں یہ معما بھی حل ہوا
تم مجھ کو بھلا دو ، جانے دو ہر وقت کی باتیں ختم ہوئیں وہ لطف کی راتیں ختم ہوئیں جیسے برساتیں ختم ہوئیں رُت آتی جاتی رہتی ہے یوں وقت کی دھارا بہتی ہے آخر دنیا دکھ سہتی ہے مجھکو بھی یونہی غم کھانے دو تم مجھ کو بھلا دو ، جانے دو تم […]
کوئی سُن کر یہ افسانہ کہیں کہہ دے نہ قاتل سے کبھی اک اشکِ خوں گشتہ ، کبھی اک آہِ افسردہ نکل آئے ہیں دل کے راز کس کس رنگ میں دل سے نظامِ عالمِ الفت کہیں برہم نہ ہو جائے ذرا کچھ سوچ کر ہم کو اٹھانا اپنی محفل سے مآلِ لذتِ آزار ہیں […]
چشمِ بصیرت وا ہے اگر ، کعبہ دل کی بستی ہے بھول بھی جاؤ جانے دو میری وفا اور اپنی جفا تم پر کیا الزام مرے شوق کی کوتاہ دستی ہے رات کی تاریکی میں جب یاد کسی کو کرتا ہوں دل کے ظلمت خانے میں اک بجلی سی ہنستی ہے اک پیری صد عیب […]
اُن کے ہاتھوں کھیل میں آخر دل کا کھلونا ٹوٹ گیا افسانہ ہے جلوۂ ساقی ، ہائے کہاں اب بادۂ ساقی کش مکشِ اندوہِ وفا میں ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیا غنچے چٹکے دیکھ نہ پائے ، پھول کھلے سب نے دیکھے گلشن گلشن عام ہے شہرت کلیوں کا دل ٹوٹ گیا دورِ بہاراں آئے […]
ہے درد دوائے الفت بھی اور غم کا ہمدم ہوتا ہے تم عشق مجھے سمجھاتے ہو ، میں جانتا ہوں میں مانتا ہوں تعبیر ہے جس کی رنج و الم ، وہ خواب یہ ہمدم ہوتا ہے ساحل پہ کھڑے ہیں حیرت سے جو ان کو خبر کیا طوفاں کی ان بے چاروں کا حسرت […]