نظر فروز ہے منظر بہار ہے ساقی
کہ تیرا جلوہ رخِ لالہ زار ہے ساقی سرور و کیف بھی ایسا ہی کچھ عطا کر دے کہ جیسے تشنہ لبی کی پکار ہے ساقی
معلیٰ
کہ تیرا جلوہ رخِ لالہ زار ہے ساقی سرور و کیف بھی ایسا ہی کچھ عطا کر دے کہ جیسے تشنہ لبی کی پکار ہے ساقی
ہم نشیں یہ تو بتا آخر مجھے کیا ہو گیا دیکھنا بیگانگیٔ اہلِ عالم دیکھنا وہ جدا جب سے ہوئے دشمن زمانہ ہو گیا
یہ مختصر ہے کہ عہدِ شباب ہی نہ رہا
سخت دشوار ہے انسان کا انساں ہونا
جب پاس تم نہیں تو بہاروں کو کیا کروں جلووں سے جس کے چاند ستاروں میں تھی ضیاء اب وہ ہنسی نہیں ستاروں کو کیا کروں
موت تھی یا حیات ختم ہوئی
گلشن گلشن دورِ بہاراں ایک ترے آ جانے سے
ہے وجہِ سکوں ایک فقط تیرا نام
اب چارہ گروں نے وہ رنگین بنا ڈالے
پہلے پہل ہم تجھ سے بچھڑ کر اور ہی کچھ تھے سینے میں تھا درد مگر ہونٹوں پہ تبسم باہر ہم کچھ اور تھے اندر اور ہی کچھ تھے