یہ زمیں ، یہ آسماں ، سب رائگاں

نذرِ محمد علی منظر یہ زمیں ، یہ آسماں ، سب رائگاں دیکھ لے سارا جہاں ، سب رائگاں کیا سنائیں داستانِ رنگ و نور مور ، جگنو ، تتلیاں ، سب رائگاں واہمہ ہے یہ جہانِ ہست و بود ہے عدم ہی جاوداں ، سب رائگاں کہکشاں بر کہکشاں یہ کائنات ہے جہاں اندر […]

دوستوں کو دشمنوں کو بھول کر

اک ملن سب مسئلوں کو بھول کر اک پرانی یاد کو تازہ رکھا روزمرہ سانحوں کو بھول کر پوچھنا یہ ہے کہ ہجرت نصیب کیسے زندہ ہیں گھروں کو بھول کر اک نئی صورت کے دلدادہ ہوئے پچھلے سارے رابطوں کو بھول کر عشرتِ امروز میں گم گشتگی آنے والی ساعتوں کو بھول کر ٹوٹ […]

رہوں گر دور تجھ سے آتشِ فرقت جلاتی ہے

قریب آؤں تو تیرے سانس کی حدت جلاتی ہے تجھے چھو لوں تو جل اٹھوں ، نہ چھو پاؤں تو جلتا ہوں عجب نسبت ہے یہ جاناں ، بہ ہر صورت جلاتی ہے تجھے تھا چند ساعت میرے ساتھ دھوپ میں چلنا مجھے اب تک مرے احساس کی شدت جلاتی ہے کروں پرواز تو کھینچے […]

سمندر میں اترتے جا رہے ہیں

یہ دریا جو بپھرتے جا رہے ہیں ہواؤں کے مقابل ڈٹ گئے تھے سو، اب ہر سُو بکھرتے جا رہے ہیں اکائی کی وہی خواہش دلوں میں بدن دونوں ٹھٹھرتے جا رہے ہیں وہ چہرہ فتح میں کیسا لگے گا اسی نشے میں ہرتے جا رہے ہیں کتابِ وصل کی تکمیل کر کے حروف اس […]

نیند آتی کہاں ہے آنکھوں میں

رات ہر دم جواں ہے آنکھوں میں ہونٹ تو مسکراتے رہتے ہیں دولتِ غم نہاں ہے آنکھوں میں وہ بظاہر ذرا نہیں بدلی اجنبیت عیاں ہے آنکھوں میں ڈار سے کونج کوئی بچھڑی ہے وحشتوں کا سماں ہے آنکھوں میں ہم جہاں روز چھپ کے ملتے تھے وہ کھنڈر سا مکاں ہے آنکھوں میں آنکھوں […]

ہر سانس ہے کراہ مگر تم کو اس سے کیا

ہو زندگی تباہ مگر تم کو اس سے کیا تم ہو سہیلیوں میں مگن اور میرا حال تنہائی بے پناہ مگر تم کو اس سے کیا تم تو ہر ایک بات پہ دل کھول کر ہنسو بھرتا ہے کوئی آہ مگر تم کو اس سے کیا منزل ملی نہ ساتھ تمہارا ہوا نصیب کھوئی ہے […]

کب میسر ہے ہمیں اپنا سہارا ہونا

کس قدر بانٹ گیا ہم کو تمہارا ہونا میں ، مرا کمرہ ، تری یاد ، سلگتا سگرٹ کیا اسی چیز کو کہتے ہیں گزارہ ہونا وہ مرے بعد بھی خوش ہو گا کسی اور کے ساتھ میٹھے چشموں کو کہاں آتا ہے کھارا ہونا تو محبت کا ہے تاجر تو یقیں کر تجھ سے […]

رفعتیں جس پہ مٹیں کتنی حسیں عورت ہے

خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک نظم عورت رفعتیں جس پہ مٹیں کتنی حسیں عورت ہے آسماں مرد اگر ہے تو زمیں عورت ہے رنگ تخلیق کئے ،دنیا کو خوش بو بخشی سچ اگر پوچھو تو یہ دھرتی نہیں ، عورت ہے نسلِ آدم کو بقا بخشی انہی دونوں نے وجہِ تخلیق کہیں […]

عید کی صبح اکیلی ہے مرے کمرے میں

دنیائے ادب کا مان ، شعر و سخن کی آبرو اور دخترِ اردو محترمہ عذرا نقوی کی ایک شاہکار نظم ایک نظم دیارِ غیر میں مقیم اپنے ہم وطن کامگار بھائیوں کے نام ولادت عذرا نقوی : 22.فروری1952۔ امروہہ ۔ بھارت —— عید کی صبح اکیلی ہے مرے کمرے میں بڑی دلگیر ہے ،رنجیدہ ہے […]

اور مہک تھی جو اس باغ کی گھاس میں تھی

اس کے پاؤں کی خوشبو بھی اُس باس میں تھی تجھ بارش نے تن پھولوں سے بھر ڈالا خالی شاخ تھی اور اِس رُت کی آس میں تھی تونے آس دلائی مجھ کو جینے کی میں تو سانسیں لیتی مٹی یاس میں تھی یاد تو کر وہ لمحے وہ راتیں وہ دن میں بھی تیرے […]