میری ہم نام

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے سبزہِ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے محترمہ بشریٰ رحمٰن —— میری ہم نام حروف و معانی کے سچے رنگوں سے تصویرِ حیات کی عکاسی کرنے والی گفتگو میں مخاطب کو تسخیر و لاجواب کرنے میں یدِ طولیٰ رکھنے والی ہر محفل میں اپنی سحر انگیز شخصیت […]

آخری بار جب ملے ہم لوگ

شہر میں ہر جگہ دکھے ہم لوگ بات ہوتی نہیں تھی آپس میں پھر بھی اک دوسرے کے تھے ہم لوگ اس نے محفل میں بیٹھنا تھا جہاں اس طرف دیکھتے رہے ہم لوگ ایک نمبر سے کال کیا آئی رات بھر جاگتے رہے ہم لوگ رہنما راہ میں فرار ہوا یونہی اک سمت چل […]

رخ حیات کی تصویر ہیں مری غزلیں

حدیث قلب کی تفسیر ہیں مری غزلیں خلاف صنف غزل جو زبان کھولتے ہیں انہیں کے واسطے شمشیر ہیں مری غزلیں عیاں ہوں ان سے اگر رنج و غم تو کیا حیرت مسافران رہ میر ہیں ہیں مری غزلیں تو انکو لفظوں کی بازی گری سمجھتا ہے مرے لئے مری جاگیر ہیں ہیں مری غزلیں […]

جو زلف یار لہرائی بہت ہے

یہ دل اسکا تمنائی بہت ہے مرا دامن نہیں خالی کہ اس میں متاع درد تنہائی بہت ہے تری خاموش آنکھیں کہہ رہی ہیں غضب ہے ان میں گویائی بہت ہے میں جھوٹے شہر کا باسی ہوں لیکن مری باتوں میں سچائی بہت ہے یہ صحرائے محبت ہے مسافر یہاں پر آبلہ پائی بہت ہے […]

میں اہل زر بھی نہیں، اہل سلطنت بھی نہیں

سو میرا کوئی خبر گیر خیریت بھی نہیں زمین کیوں مجھے چشم حسد سے دیکھتی ہے اگرچہ میں کوئی شخص فلک صفت بھی نہیں کسی نے پھر مرے جذبوں کا آج خون کیا بڑا عجیب ہوں میں، طالب دیت بھی نہیں اے سادہ لوح تو یاں کامیاب نئیں ہوگا ترے وجود میں تھوڑی منافقت بھی […]

تمہاری تصویر ہم مسلسل ہی تک رہے ہیں

ہماری آنکھوں سے اشک بے حد ٹپک رہے ہیں ہم اشتباہا عجیب بستی میں آ گئے ہیں کہ لوگ اک دوسرے کے عیبوں کو ڈھک رہے ہیں ہمارے آنگن میں سنگ باری ہوئی شجر پر تو ہم نے جانا کہ پھل درختوں کے پک رہے ہیں خود ان میں جلتے رہیں گے پل پل کہ […]

نگاہ چشم قاتل کو نشانہ چاہئے تھا

نشانہ بھی کوئی مجھ سا دوانہ چاہئے تھا گھنے جنگل میں اے برق تپاں کچھ تو بتا دے جلانے کو مرا ہی آشیانہ چاہئے تھا حقائق تھے پرانے ان سے پردہ کیا اٹھاتا کہ اہل شہر کو تازہ فسانہ چاہئے تھا تمہاری زلف کی چھاؤں تلے ہم کیوں نہ آتے بلا کی دھوپ میں اک […]