معطی ہے خدا اور تو مختارِ عنایت
ہم سب کے لیے ہے ترا دربارِ عنایت تو شاہِ زمن، روحِ جہاں، مالکِ کونین سجتی ہے ترے سر پہ ہی دستارِ عنایت
معلیٰ
ہم سب کے لیے ہے ترا دربارِ عنایت تو شاہِ زمن، روحِ جہاں، مالکِ کونین سجتی ہے ترے سر پہ ہی دستارِ عنایت
حبِ آل بتول کافی ہے جب سے تھاما ہے دامن زہرا رحمتوں کا نزول کافی ہے
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے سبزہِ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے محترمہ بشریٰ رحمٰن —— میری ہم نام حروف و معانی کے سچے رنگوں سے تصویرِ حیات کی عکاسی کرنے والی گفتگو میں مخاطب کو تسخیر و لاجواب کرنے میں یدِ طولیٰ رکھنے والی ہر محفل میں اپنی سحر انگیز شخصیت […]
شہر میں ہر جگہ دکھے ہم لوگ بات ہوتی نہیں تھی آپس میں پھر بھی اک دوسرے کے تھے ہم لوگ اس نے محفل میں بیٹھنا تھا جہاں اس طرف دیکھتے رہے ہم لوگ ایک نمبر سے کال کیا آئی رات بھر جاگتے رہے ہم لوگ رہنما راہ میں فرار ہوا یونہی اک سمت چل […]
حدیث قلب کی تفسیر ہیں مری غزلیں خلاف صنف غزل جو زبان کھولتے ہیں انہیں کے واسطے شمشیر ہیں مری غزلیں عیاں ہوں ان سے اگر رنج و غم تو کیا حیرت مسافران رہ میر ہیں ہیں مری غزلیں تو انکو لفظوں کی بازی گری سمجھتا ہے مرے لئے مری جاگیر ہیں ہیں مری غزلیں […]
یہ دل اسکا تمنائی بہت ہے مرا دامن نہیں خالی کہ اس میں متاع درد تنہائی بہت ہے تری خاموش آنکھیں کہہ رہی ہیں غضب ہے ان میں گویائی بہت ہے میں جھوٹے شہر کا باسی ہوں لیکن مری باتوں میں سچائی بہت ہے یہ صحرائے محبت ہے مسافر یہاں پر آبلہ پائی بہت ہے […]
سو میرا کوئی خبر گیر خیریت بھی نہیں زمین کیوں مجھے چشم حسد سے دیکھتی ہے اگرچہ میں کوئی شخص فلک صفت بھی نہیں کسی نے پھر مرے جذبوں کا آج خون کیا بڑا عجیب ہوں میں، طالب دیت بھی نہیں اے سادہ لوح تو یاں کامیاب نئیں ہوگا ترے وجود میں تھوڑی منافقت بھی […]
ہماری آنکھوں سے اشک بے حد ٹپک رہے ہیں ہم اشتباہا عجیب بستی میں آ گئے ہیں کہ لوگ اک دوسرے کے عیبوں کو ڈھک رہے ہیں ہمارے آنگن میں سنگ باری ہوئی شجر پر تو ہم نے جانا کہ پھل درختوں کے پک رہے ہیں خود ان میں جلتے رہیں گے پل پل کہ […]
نشانہ بھی کوئی مجھ سا دوانہ چاہئے تھا گھنے جنگل میں اے برق تپاں کچھ تو بتا دے جلانے کو مرا ہی آشیانہ چاہئے تھا حقائق تھے پرانے ان سے پردہ کیا اٹھاتا کہ اہل شہر کو تازہ فسانہ چاہئے تھا تمہاری زلف کی چھاؤں تلے ہم کیوں نہ آتے بلا کی دھوپ میں اک […]
خوف خدا یہ کام تو میں صبح و مسا کرتا ہوں یا رب میں تری حمد و ثنا کرتا ہوں کچھ خوف نہیں مجھکو کسی کا یارب اے میرے خدا تجھ سے ہی میں ڈرتا ہوں