خواب ترے جو دل کی پگڈنڈی سے ہٹ جاتے
شاید پلکوں پر اُمڈے یہ بادل چھٹ جاتے میں کچّا رستہ وہ پکّی سڑکوں کا عادی مجھ پر چلتا کیسے پاؤں دھول سے اَٹ جاتے تم نے سوچا ہی کب اپنی انا سے آگے کچھ ورنہ بیچ کے فاصلے گھٹتے گھٹتے گھٹ جاتے صبح سویرے تیرے رستے میں جا بیٹھتے ہم شام سمے تیرے پیچھے […]