گہری نیند (سیلاب کے موقع پر لکھی گئی ایک نظم)

مانجھیوں کا تھا رزق جو پانی اب انہیں کو ڈبو رہا ہے کیوں؟ جاگ اُٹھاّ چناب پھر شاید موت ہے لہر لہر پانی کی پیاس سب کی بُجھانے والایم بھُوک اپنی مٹا رہا ہے اب ہر کوئی سر جھُکا رہا ہے اب بستیاں سو گئی ہیں گہری نیند

تِرا مفاد بھی ہم کو دکھائی دیتا ہے

وگرنہ کون کسی کو بھلائی دیتا ہے کبھی غریب کو عزت گنوانی پڑتی ہے کبھی لگان میں پوری کمائی دیتا ہے مِری ہی سوچ کی چاندی ہے میرے بالوں میں قلم کو میرا لہو روشنائی دیتا ہے کبھی جھمیلے سے باہر نکل سکے تو سُن وہ غدر جو مِرے اندر سنائی دیتا ہے مِرا ہی […]

نہ سکون دے نہ قرار دے ، مجھے امتحاں سے گذار دے

اُسے جیت دے اُسے پیار دے ، مجھے مات دے مجھے ہار دے مِری آنکھ میں تِرا خواب ہے ، اُسے نوچ لے ذرا سوچ لے کوئی پھانس دل میں اُتار دے ، مِرا زخم زخم نکھار دے کسی شام کو مرے نام کر ، کوئی بات ہو تِرا ساتھ ہو مِری ایک شبـ تو […]

یوں تو صبح بھی سُندر ہے پیاری ہے

پر اپنی عادت شب بیداری ہے سہما سہما سا ہے ہر اِک منظر چہرہ چہرہ اِک خوف سا طاری ہے سوچو تو کوئی مخلص دوست نہیں جو دیکھو تو ڈھیروں سے یاری ہے کھوج ہو جس میں اَن دیکھی منزل کا ایسے ایک سفر کی تیاری ہے اُس کے ترکش میں تیر نہیں شاید گھائل […]