حافظہ
عجب ہے حافظہ میرا کہ جو میں یاد رکھنا چاہتا ہوں، بھول جاتا ہوں جسے میں بھولنا چاہوں وہی سب یاد رہتا ہے
معلیٰ
عجب ہے حافظہ میرا کہ جو میں یاد رکھنا چاہتا ہوں، بھول جاتا ہوں جسے میں بھولنا چاہوں وہی سب یاد رہتا ہے
مانجھیوں کا تھا رزق جو پانی اب انہیں کو ڈبو رہا ہے کیوں؟ جاگ اُٹھاّ چناب پھر شاید موت ہے لہر لہر پانی کی پیاس سب کی بُجھانے والایم بھُوک اپنی مٹا رہا ہے اب ہر کوئی سر جھُکا رہا ہے اب بستیاں سو گئی ہیں گہری نیند
اُسے کہہ دو نہ آئے میرے خوابوں میں مری آنکھوں کو تو خوابوں کی عادت ہے
کہ جس طرح سے مِری بقا کے لئے ضروری ہے آکسیجن اسی طرح تم بھی ہو ضروری
وہ لڑکی مِرا خواب ہے خواب جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
کہ جیسے زمیں گھومتی رہتی ہے گرد محور کے اپنے مِری ذات بھی ایسے ہی گھومتی ہے ترے گرد !
وگرنہ کون کسی کو بھلائی دیتا ہے کبھی غریب کو عزت گنوانی پڑتی ہے کبھی لگان میں پوری کمائی دیتا ہے مِری ہی سوچ کی چاندی ہے میرے بالوں میں قلم کو میرا لہو روشنائی دیتا ہے کبھی جھمیلے سے باہر نکل سکے تو سُن وہ غدر جو مِرے اندر سنائی دیتا ہے مِرا ہی […]
اُسے جیت دے اُسے پیار دے ، مجھے مات دے مجھے ہار دے مِری آنکھ میں تِرا خواب ہے ، اُسے نوچ لے ذرا سوچ لے کوئی پھانس دل میں اُتار دے ، مِرا زخم زخم نکھار دے کسی شام کو مرے نام کر ، کوئی بات ہو تِرا ساتھ ہو مِری ایک شبـ تو […]
ایک اس کے سوا میں نئے سال سے اور تو کچھ نہیں کچھ نہیں مانگتا
پر اپنی عادت شب بیداری ہے سہما سہما سا ہے ہر اِک منظر چہرہ چہرہ اِک خوف سا طاری ہے سوچو تو کوئی مخلص دوست نہیں جو دیکھو تو ڈھیروں سے یاری ہے کھوج ہو جس میں اَن دیکھی منزل کا ایسے ایک سفر کی تیاری ہے اُس کے ترکش میں تیر نہیں شاید گھائل […]