شــیوہ عـــفو ہــو ، پیـــمانہ سالاری ہـــو

شــیوہ عـــفو ہــو ، پیـــمانہ سالاری ہـــو پڑھ یہ سنت، کہ تری فکر میں بیداری ہـــو خطبہ خیــر کو تفصیل سے، ترتیــل سے پڑھ تاکہ وجــدان میں وجدان سی سرشاری ہـــو لطــف تو تــب ہے کہ ہــر آن براہیمــی درود آنکھ کی روح سے زمزم کی طرح جاری ہـــو کون ہے میرے محــمد کے علاوہ […]

کھلیں گلاب تو آنکھیں کھلیں اچُنگ چلے

پون چلے تو مہک اسکے سنگ سنگ چلے ہے میرا سوچ سفر فلسفے کے صحرا میں ہوا کے دوش پہ جیسے کٹی پتنگ چلے کسی کا ہو کے کوئی کس طرح رہے اپنا رہِ سلوک پہ جیسے کوئی ملنگ چلے طویل رات ہے ، بھیگی سحر ہے ، ٹھنڈی شام بڑے ہوں تھوڑے سے دن […]

ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود

دنیا سمٹ رہی ہے، بکھرنے کے باوجود راہِ فنا پہ لوگ سدا گامزن رہے ہر ہر نفس پہ موت سے ڈرنے کے باوجود اس بحرِ کائنات میں ہر کشتی انا غرقاب ہو گئی ہے ابھرنے کے باوجود شاید پڑی ہے رات بھی سارے چمن پہ اوس بھیگے ہوئے ہیں پھول نکھرنے کے باوجود زیرِ قدم […]