پر خار زندگی کو پھر پُر بہار کر دو
پُر خار زندگی کو پھر پُر بہار کر دو عرفاں کی مے کا طاری کیف و خمار کر دو اپنے غلامِ در میں مجھ کو شمار کرکے دریائے گمرہی سے سرکار پار کر دو
معلیٰ
پُر خار زندگی کو پھر پُر بہار کر دو عرفاں کی مے کا طاری کیف و خمار کر دو اپنے غلامِ در میں مجھ کو شمار کرکے دریائے گمرہی سے سرکار پار کر دو
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لئے تھے بہار ہے شادیاں مبارک، چمن کو آبادیاں مبارک مَلَک فلک اپنی اپنی لَے میں یہ گھُر عنادل کا بولتے تھے وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھیں دھومیں اُدھر […]
اے وطن آئے تیرے دیوانے
بچ گیا ہے جو لہو اب کے فسادات کے بعد
اغیار ہیں آمادۂ شر جاگتے رہنا
اجاڑ دے مری مٹی کو در بدر کر دے مری زمیں میرا آخری حوالہ ہے سو میں رہوں نہ رہوں اسکو بار ور کر دے
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
نگاہِ ناز سے کُھلتا ہے معاملہ دل کا
کوئی خوش بخت سا اتوار مکمل کر دے
افسانۂ حیات بنی ، پُھول بن گئی جب مسکرائی کوئی کلی اضطراب میں