ہے چُبھن مستقل قرار کے ساتھ

پھول ڈالی پہ جیسے خار کے ساتھ صبح کا انتظار ہے لیکن بے یقینی ہے اعتبار کے ساتھ خواہشِ باغباں ہے یہ شاید زرد رُت بھی رہے بہار کے ساتھ میرے گھر میں بھی کہکشاں کی طرح ربط قائم ہے انتشار کے ساتھ پیڑ نعمت بدست و سرخم ہیں ہے تفاخر بھی انکسار کے ساتھ

مری نظر میں تری آرزو نظر آئے

مجھے وہ آنکھ عطا کر کہ تو نظر آئے کلام اپنا سمو دے وجود میں ایسا کہ میری چپ میں تری گفتگو نظر آئے میں جب بھی آئنہ دیکھوں غرورِ ہستی کا تو ایک عکسِ عدم روبرو نظر آئے ہٹا دے آنکھ سے میری یہ خواہشات کے رنگ جو چیز جیسی ہے بس ہوبہو نظر […]

جوکر

ایک سہانی شام تھی شاید پائل کی جھنکار کو لے کر وہ میرے کمرے میں آئی میز پہ رکھی تاش کی ڈبیا کھول کے اُس نے سارے پتے شوخ سے اِک انداز میں آکر میری جانب پھینک دیئے تھے میں آنکھوں میں دھر حیرانی اپنی گود اور چاروں جانب بکھرے پتے دیکھ رہا تھا اینٹ […]

دیدہ وروں سے کور نگاہی ملی مجھے

ایسے پڑھے ورق کہ سیاہی ملی مجھے کس دشت میں چلا ہوں کہ احساس مر گیا صورت دکھائی دی نہ صدا ہی ملی مجھے خالی پیالے سینکڑوں ہاتھوں میں ہر طرف تشنہ لبی اور ایک صراحی ملی مجھے ہمزاد میرا مر گیا میری انا کے ساتھ ورثے میں تخت ذات کی شاہی ملی مجھے اپنی […]

آؤ ماتم کریں اُداسی کا

شہر، گلیاں، نگر، تمام اُداس چاند، تارے اُداس، شام اُداس صبح سے شام کا نظام اُداس تیرا وہ آخری سلام اُداس کیا تغیّر ہے تیرے جانے سے شہر بھر کاٹنے کو دوڑتا ہے ہر گلی اُنگلیاں اُٹھاتی ہے میں نے سوچا کبھی نہ تھا لیکن اَب تِری یاد بھی ستاتی ہے پھر تِری یاد گھیر […]