عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
عشق ہو جائے کسی سے ، کوئی چارہ تو نہیں ؟ صرف مُسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں
معلیٰ
عشق ہو جائے کسی سے ، کوئی چارہ تو نہیں ؟ صرف مُسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں
دیکھا ہے کائنات کا نقشہ کھنگال کر جانے کہاں سے لاتے ہیں یہ لوگ حوصلہ کانٹوں میں پھینک دیتے ہیں پھولوں میں پال کر
بینائی کے طلسم سے آگے بھی دیکھیے منظر کو ایک قسم سے آگے بھی دیکھیے کچھ اور بھی ہیں راز خدوخال سے پرے عورت کو اس کے جسم سے آگے بھی دیکھیے
عورت میں کچھ رہا نہیں عورت نکال کر
پھول ڈالی پہ جیسے خار کے ساتھ صبح کا انتظار ہے لیکن بے یقینی ہے اعتبار کے ساتھ خواہشِ باغباں ہے یہ شاید زرد رُت بھی رہے بہار کے ساتھ میرے گھر میں بھی کہکشاں کی طرح ربط قائم ہے انتشار کے ساتھ پیڑ نعمت بدست و سرخم ہیں ہے تفاخر بھی انکسار کے ساتھ
ربط قائم ہے انتشار کے ساتھ
مجھے وہ آنکھ عطا کر کہ تو نظر آئے کلام اپنا سمو دے وجود میں ایسا کہ میری چپ میں تری گفتگو نظر آئے میں جب بھی آئنہ دیکھوں غرورِ ہستی کا تو ایک عکسِ عدم روبرو نظر آئے ہٹا دے آنکھ سے میری یہ خواہشات کے رنگ جو چیز جیسی ہے بس ہوبہو نظر […]
ایک سہانی شام تھی شاید پائل کی جھنکار کو لے کر وہ میرے کمرے میں آئی میز پہ رکھی تاش کی ڈبیا کھول کے اُس نے سارے پتے شوخ سے اِک انداز میں آکر میری جانب پھینک دیئے تھے میں آنکھوں میں دھر حیرانی اپنی گود اور چاروں جانب بکھرے پتے دیکھ رہا تھا اینٹ […]
ایسے پڑھے ورق کہ سیاہی ملی مجھے کس دشت میں چلا ہوں کہ احساس مر گیا صورت دکھائی دی نہ صدا ہی ملی مجھے خالی پیالے سینکڑوں ہاتھوں میں ہر طرف تشنہ لبی اور ایک صراحی ملی مجھے ہمزاد میرا مر گیا میری انا کے ساتھ ورثے میں تخت ذات کی شاہی ملی مجھے اپنی […]
شہر، گلیاں، نگر، تمام اُداس چاند، تارے اُداس، شام اُداس صبح سے شام کا نظام اُداس تیرا وہ آخری سلام اُداس کیا تغیّر ہے تیرے جانے سے شہر بھر کاٹنے کو دوڑتا ہے ہر گلی اُنگلیاں اُٹھاتی ہے میں نے سوچا کبھی نہ تھا لیکن اَب تِری یاد بھی ستاتی ہے پھر تِری یاد گھیر […]