اس کا لہجہ سماعتوں میں گھلا
جیسے کانوں نے شاعری چکھی
معلیٰ
جیسے کانوں نے شاعری چکھی
ترا لہجہ ابھی تلوار پہلے کب ہوا تھا
ترا معصوم لہجہ کون بھولے ترا تو بولنا ہی سادگی ہے
کہیں ایجاد محض بے مفہوم کہیں مفہوم ہے تو لہجہ نہیں
ترا لہجہ پرانا چاہتی ہوں
آدمیت کا بھی لہجہ سرد تھا
تیری غزلیں قاسمی سے کم نہیں
کسی کی باتوں میں آ گیا تھا
بہت تلخ لہجہ ہے دنیا کا یارو کہاں تک بھلا یوں ہی جلتے رہیں گے
مرے دشت انا میں گونجتا ہے