اس کے طرز سخن کے مارے لوگ
اپنا لہجہ کہاں بدلتے ہیں
معلیٰ
اپنا لہجہ کہاں بدلتے ہیں
کسی کا لہجہ یقیناً فریب لگتا تھا مگر فریب کے پیچھے صداقتیں تھیں بہت
زندگی کو مری رنگین بنا دیتا ہے
کہیں اندر ہی ٹوٹے ہوں گے الفاظ ابھی تک تیرا لہجہ چبھ رہا ہے
لہجہ مگر ہے صاف کدورت لیے ہوئے
آئنہ دیکھ تو دانش کا، مرے بعد تو دیکھ مجھ پہ ناکامی کے عنوان ابھی سے نہ لگا تُو نتیجہ مری کاوش کا مرے بعد تو دیکھ تُو مرے ہاتھ میں بجھتی ہوئی مشعل پہ نہ جا دُور تک سلسلہ تابش کا مرے بعد تو دیکھ پیاسی مٹی مجھے پی جائے گی مانا، لیکن قطرہ […]
سوا اس کے کوئی حاجت کہاں تھی
اس کا درشت لہجہ اسے اس طرح پھبا سلکی بدن پہ جیسے سجے کھردری قمیض
آتشیں ہے لہجہ بھی گفتگو بھی بارودی سوچیے شفیقؔ اس سے کس طرح نبھانا ہے
ترا لہجہ بھی بولنا پڑ گیا ہے