پہاڑ، دشت، سمندر ٹھکانے دریا کے

زمیں کو رنگ ملے ہیں بہانے دریا کے کبھی سمندروں گہرا، تو ہے کبھی پایاب بدلتے رہتے ہیں اکثر زمانے دریا کے سفینہ سب کا سمندر کی سمت میں ہے رواں مگر لبوں پہ مسلسل ترانے دریا کے نہیں چٹان کے سینے پہ یوں ہی چادرِ آب ہیں آبشار کے پیچھے خزانے دریا کے بھنور […]

پندار کی ویران سرا میں نہیں رہتے

ہم خاک پہ رہتے ہیں خلا میں نہیں رہتے قامت بھی ہماری ہے، لبادہ بھی ہمارا مانگی ہوئی دستار و قبا میں نہیں رہتے ہم کشمکشِ دہر کے پالے ہوئے انسان ہم گریہ کناں کرب و بلا میں نہیں رہتے خاشاکِ زمانہ ہیں، نہیں خوف ہمیں کوئی آندھی سے ڈریں وہ جو ہوا میں نہیں […]

پگھل کر روشنی میں ڈھل رہوں گا

نظر آ کر بھی میں اوجھل رہوں گا بچھڑ جاؤں گا اک دن اشک بن کر تمہاری آنکھ میں دو پَل رہوں گا ہزاروں شکلیں مجھ میں دیکھنا تم سروں پر بن کے میں بادل رہوں گا میں مٹی ہوں، کوئی سونا نہیں ہوں جہاں کل تھا، وہیں میں کل رہوں گا بدن صحرا ہے […]