میرے چہرے پہ لگے زخم یہ بتلاتے ہیں
میرے چہرے سے رعایت نہیں کی جاسکتی
معلیٰ
میرے چہرے سے رعایت نہیں کی جاسکتی
اک شعر ہو رہا ہے مصرعے بدل بدل کے
اتنا بھی خود غرض نہ بن، کچھ تو مرا خیال رکھ
دربازیِ بخشش کی خبر ساتھ میں دینا
ہم اہلِ انکسار کے قدموں کی خاک ہیں
اب کیا کہیں کہ آج بھی حصہ ہے زندگی کا
آج پھر اُن سے ملاقات ادھوری رہ جائے
اور چپ رہوں تو پھر مری پہچان جائے گی
جو نظر آتا ہے میرا، وہ نہیں ہے میرا
پھر وہی کام سویرے جو مسافت دے گا