(سانحہ گیارہ ستمبر کی تیسری برسی پر)

مری ہمنوائی میں جب تلک مرے یارِ عربدہ جُو نہ تھے پسِ پردہ سب تھے حریفِ جاں، کبھی روبرو تو عدو نہ تھے گو خبر تھی اہلِ نظر کو سب، پہ بھرم تھا پھر بھی جہان میں تہی دامنی کے یہ تذکرے کبھی زیبِ قریہ و کُو نہ تھے مرے دوستوں کے وہ مشورے، صفِ […]

لوگ کیا کیا گفتگو کے درمیاں کھلنے لگے

ذکر یاراں چل پڑا تو راز داں کھلنے لگے پھر پڑاؤ ڈل گئے یادوں کے شامِ ہجر میں اور فصیلِ شہرِ جاں پر کارواں کھلنے لگے تنگ شہروں میں کھلے ساگر کی باتیں کیا چلیں بادِ ہجرت چل پڑی اور بادباں کھلنے لگے جب سے دل کا آئنہ شفاف رکھنا آ گیا میری آنکھوں پر […]

ہدیۂ اشک ملے، درد کی سوغات ملے

کاسۂ عشق ہے خالی کوئی خیرات ملے بھر دے کشکول سماعت کو ہمیشہ کے لئے لبِ لعلیں سے ترے ایسی کوئی بات ملے کھیل چلتا ہی رہے گرچہ لپٹ جائے بساط مات ہونی ہے تو پھر ایسی کوئی مات ملے خاک اُڑانے کو ملی وسعتِ آشوبِ جہاں غم اٹھانے کو ترے شہر میں دن رات […]

بس بہت ہو گئے نیلام، چلو لوٹ چلو

اتنے ارزاں نہ کرو دام، چلو لوٹ چلو نہ مداوا ہے کہیں جن کا، نہ امیدِ قرار ہر جگہ ہیں وہی آلام، چلو لوٹ چلو معتبر ہوتی نہیں راہ میں گزری ہوئی رات اس سے پہلے کہ ڈھلے شام، چلو لوٹ چلو ماہِ نخشب سے یہ چہرے ہیں نظر کا دھوکا چاند اصلی ہے سرِ […]

بات جو دل میں نہیں لب سے ادا کیسے کروں

میں خفا تو ہو گیا اُس سے، گلہ کیسے کروں دل کے ٹوٹے آئنے میں عکس ہے اک خواب کا قیدِ رنگ و روپ سے اُس کو رہا کیسے کروں سوچتا ہوں اک ہجومِ صد بلا کے درمیاں عافیت کے خواب کو میں واقعہ کیسے کروں روز و شب کے گنبدِ بے دَر سے مشکل […]

سنگِ ستم سے کوئی بھی شیشہ نہیں بچا

محفوظ وہ رہا جو دریچہ نہیں بچا بازیگرانِ شہر سیاست ہوئے خموش اب دیکھنے کو کوئی تماشہ نہیں بچا کیسی چڑھی ہے دھوپ سرِ شہر بد لحاظ برگد ہرے بھرے ہوئے سایا نہیں بچا پھیلاؤ کی ہوس بھرے دریا کو پی گئی پانی چڑھا تو کوئی کنارہ نہیں بچا بجھنے لگے چراغ مرے جسم و […]

رہبری کے زخموں کا چارہ گر نہیں ملتا

واپسی کے رستے میں ہمسفر نہیں ملتا شہر ہے یا خواہش کی کرچیوں کا صحرا ہے بے خراش تن والا اک بشر نہیں ملتا ہر طرف ضرورت کی اک فصیلِ نادیدہ بے شگاف ایسی ہے جس میں دَر نہیں ملتا قہقہوں کے سائے میں بے بسی کا عالم ہے مرگِ آدمیت کو نوحہ گر نہیں […]

مرے شہر ذرّہ نواز کا وہی سر پھرا سا مزاج ہے

کبھی زیبِ سر ہے غبارِ رہ، کبھی زیرِ پا کوئی تاج ہے کہیں بے طلب سی نوازشیں، کہیں بے حساب محاسبے کبھی محسنوں پہ ملامتیں، کبھی غاصبوں کو خراج ہے وہی بے اصول مباحثے، وہی بے جواز مناقشے وہی حال زار ہے ہر طرف، جو روش تھی کل وہی آج ہے وہی اہلِ حکم کی […]

خود فریبی کے نئے کچھ تو بہانے ڈھونڈیں

اُس کی الفت کے علاوہ بھی ٹھکانے ڈھونڈیں گذری صدیوں کو گذارے چلے جائیں کب تک چھوڑ کر ماضی چلو اور زمانے ڈھونڈیں ہم کسی اور ہی اندازِ محبت کے ہیں لوگ تازہ رشتوں میں بھی اقرار پرانے ڈھونڈیں دل پہ مت لینا کہ لوگوں کی تو باتیں یوں ہیں جیسے اُڑتے ہوئے کچھ تیر […]

رستوں کا خوف ہے نہ مجھے فاصلوں کا ڈر

اُس کو سفر کا شوق، مجھے رہبروں کا ڈر جب سر پہ دھوپ تھی تو رہی بادلوں کی آس اب سر پہ چھت ہوئی تو مجھے بارشوں کا ڈر اک شخص جاتے جاتے بہت خامشی کے ساتھ کانوں پہ رکھ گیا ہے دبی آہٹوں کا ڈر محتاط چل رہا ہوں کہ چاروں طرف مرے شیشہ […]