کالی آنکھیں گورے عارض زلف مانند سحاب
شوخ لب وہ شوخ لہجہ مست آنکھوں میں شراب
معلیٰ
شوخ لب وہ شوخ لہجہ مست آنکھوں میں شراب
اس نے جس جس کو کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا
یار! تُو شعر سنائے گا تو چھا جائے گا
کون اعصاب پہ طاری ہے جناب ؟ اتنا ٹوٹا ہوا لہجہ کیوں ہے ؟
لہجہ حسین شخص کا منظر سے کم نہیں قصہ کرے بیان تو قصہ دکھائی دے اندر کی آنکھ سے بھی کبھی اس کی سمت دیکھ وہ شخص رو رہا ہے جو ہنستا دکھائی دے
کمال شخص ہے لہجہ بھی جانچتا ہے مرا
تم اُس کو مجبور کیے رکھنا باتیں کرتے رہنے پر اتنی دیر میں ، میں نے اُس کا لہجہ چوری کر لینا ہے
کہ میری ذات میں لہجہ شناس رہتا ہے
میں آپ کے جواب سے ہوں متّفق مگر لہجہ مجھے یہ آپ کا اچھا نہیں لگا
ایسے میں میرا خون بھی جمتا دکھائی دے سانسیں ہیں بند اور ہے خاموش دھند بھی لب کھول کچھ تو بول کہ رستہ سجھائی دے