لگا دیا ہے اسے ہم نے کارِ وحشت میں
وہ دل کہ جس سے دھڑکنے کا کام لینا تھا عجیب دشمن جاں ہے کہ ساتھ رہنے دیا جسے گنوا کے کوئی انتقام لینا تھا
معلیٰ
وہ دل کہ جس سے دھڑکنے کا کام لینا تھا عجیب دشمن جاں ہے کہ ساتھ رہنے دیا جسے گنوا کے کوئی انتقام لینا تھا
راہ آسان کی محبت نے دین و دنیا بھلا دیئے ہیں مجھے ایک انسان کی محبت نے مجھ کو لاہور کا نہ ہونے دیا شہر ملتان کی محبت نے
اگر نہیں ہے تو سب کچھ خیال ِ خام ہے کیا ؟ اُداسیاں چلی آتی ہیں شام ڈھلتے ہی ہمارا دل کوئی تفریح کا مقام ہے کیا ؟ وہی ہو تم جو بُلانے پہ بھی نہ آتے تھے بنا بُلائے چلے آئے ، کوئی کام ہے کیا ؟ جواباََ آئی بڑی تیز سی مہک منہ […]
کتنے بیتے موسم دھیان میں دَر آئے ایک لطیفے سے کل یاد آیا کوئی ہنستے ہنستے آنکھ میں آنسو بھر آئے ضبط کی بھٹی میں یوں پک گئے اشک میرے چھانی آنکھ تو مُٹھی میں کنکر آئے اِس حالت کو اُردو میں کیا کہتے ہیں ؟ جب دل کے خالی پن سے دل بھر آئے […]
مجھے مِلو تو کبھی سرسری نہیں ملنا ہمارے جیسے تو مل جائیں گے ہزاروں تمہیں تمہارے جیسا ہمیں ایک بھی نہیں ملنا یہی سبق ہے محبت کا اول و آخر جسے تلاش کرو گے وہی نہیں ملنا وہ جا رہا ہے سو جی بھر کے دیکھ لو فارس پھر اِس کے بعد یہ موقع کبھی […]
اور آج رہ گیا ہے تعلق برائے نام اشیائے کائنات سے ناآشنا تھا میں پھر ایک اِسم نے مجھے سب کے سکھائے نام تب میں کہوں کہ سچا ہوں یک طرفہ عشق میں وہ میرا نام پوچھے ، مجھے بھول جائے نام وہ دلرُبا بھی تھی کسی شاعر کی کھوج میں میں نے بھی پھر […]
عشق کا پہلا مُعجزہ ترا نام نارسائی کے عرش سے اُتر آ ورنہ رکھ دیں گے ہم خدا ترا نام صدیوں سوچی حروف نے ترتیب تب کہیں لفظ میں ڈھلا ترا نام قسمیں دے دے کے پوچھتے رہے لوگ میں نے پھر بھی نہیں لیا ترا نام مِٹ نہ پائے گا وقت کے ہاتھوں لوح […]
برف میں ڈوبی ہوئی پتھر کی سِل پر لکھ لیا یعنی میرا نام اس نے لوحِ دل پر لکھ لیا لکھ لیے ماتھے پہ میرے شعر اس نے صاحبو آسماں کے واقعے کو آب و گِل پر لکھ لیا
لایا نہیں خیال گذشتہ صدی کا میں میں خود ہی ایک عہد ہوں اور عہد ساز ہوں پرتو نہیں رہا ہوں کبھی بھی کسی کا میں
عمر اب بے کیف لمحوں کا تسلسل رہ گئی کھا گئی دیمک جبینِ سجدہ ریزِ عجز کو زندگی کی اپسراء محوِ تغافل رہ گئی