ترے ذکرسے چِھڑ گئی بات کیا کیا

فسانے سُنے ہم نے کل رات کیا کیا تُو رونے لگے گا اگر میں بتا دوں کہ ہنس ہنس کے جھیلے ہیں صدمات کیا کیا وضو، قرأتِ آیت عشق ، گریہ تری دید کی ہیں رسومات کیا کیا کبھی چال بدلی ، کبھی راہ بدلی کیے ہیں ترے پاؤں نے ہاتھ کیا کیا میں جسموں […]

اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ہوگا ہی

یہ رازِ بوسۂ لب ہے، عیاں تو ہوگا ہی تمام شہر جو دھندلا گیا تو حیرت کیوں؟ دِلوں میں آگ لگی ہے ، دھواں تو ہوگا ہی بروزِ حشر مِلے گا ضرور صبر کا پھل یہاں تُو ہو نہ ہو میرا ، وہاں تو ہوگا ہی یہ بات نفع پرستوں کو کون سمجھائے؟ کہ کاروبارِ […]

طلسم خانۂ امریکہ

اَبر و گُل و سِتارہ و مہتاب ساتھ تھے نکلا مَیں گھر سے تو مرے احباب ساتھ تھے رختِ سفر میں کچھ تو اُداسی تھی، کچھ گُلاب یعنی تُمہاری یاد کے اسباب ساتھ تھے صَوت و صدا کے دیس میں تنہا نہیں تھا مَیں چنگ و رُباب و نغمہ و مِضراب ساتھ تھے ھر پل […]

اس مصیبت کا حل تو بین میں ہے

سانپ اک اور آستین میں ہے ہے لہو میں تمہارے کم ظرفی بے وفائی تمہارے جین میں ہے جس پہ لاکھوں کا عشق وارا تھا اب وہ تیرہ میں ہے نہ تین میں ہے میں نکل تو رہی ہوں سوئے فلک میری منزل اسی زمین میں ہے پردہ گرنے تلک نہ اٹھنا تم راز سارا […]