کوئی بھیک رُوپ سُروپ کی، کوئی صدقہ حسن و جمال کا
شب و روز پھرتا ہوں دربدر، میں فقیر شہرِ وصال کا کسے فکر بُود نبُود کی، کسے ہوش ہے مہ و سال کا مری آںکھ میں ہے بسا ہوا کوئی مُعجزہ خدوخال کا بڑی شُستگی سے نبھا گیا سبھی چشم و لب کے معاملے سو کھلا کہ صرف حسیں نہ تھا، وہ ذہین بھی تھا […]